UNICEF concerned over delay in reopening of girls' schoolsتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن :اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے چھٹی جماعت سے آگے کی طالبات کے ا سکولوں کی بندش پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دس لاکھ سے زائد بچوں کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔تنظیم نے بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے کہا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اپنی مدد جاری رکھیں۔ یونیسیف کی ڈائریکٹر برائے عالمی مواصلات اور سفارشات و تجاویز پلوما اسکیوڈرو نے کہا کہ ہم کابل کے جنوب میں لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول میں ہیں اور ہم یہاں دنیا اور بین الاقوامی عطیہ دہندگان کو ایک واضح پیغام دینے کے لیے آئے ہیں کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر زور دینا ترک نہ کریں۔ یہ لڑکیاں جو پرائمری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اس ملک کی امید ہیں اور انہیں اب ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران، 50 سے زیادہ لڑکیاں اور لڑکے افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار میں اضافے کی توقع ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کے خلاف ہر طرح کا تشدد اب بند ہونا چاہیے۔دریں اثنا، وزارت تعلیم نے کہا کہ 7 تا12 گریڈ میں لڑکیوں کے اسکول مستقبل قریب میں دوبارہ کھولے جائیں گے۔ چھٹی جماعت سے اوپر کی طالبات مارچ کے آخری ہفتے سے تعلیم سے محروم ہیں۔ ایک استاد عمر زادہ نے کہا کہ لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے اور ان کے اسکولوں کو بند کرنے سے حکومت بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ وہ اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے طریقہ کار پر کام کر رہی ہے لیکن انہیں ابھی تک کوئی حل نہیں مل سکا ہے۔ ہم امارت اسلامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد لڑکیوں کے لیے اسکول دوبارہ کھول دیے جائیں۔

یک اور استادثمرہ نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے تمام اساتذہ کی تنخواہیں ہر ماہ ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ہمیں گزشتہ چند مہینوں سے باقاعدہ تنخواہیں نہیں مل رہیں ۔دریں اثنا اساتذہ نے ادائیگیوں میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا۔وزارت تعلیم کے ترجمان عزیز احمد ریان نے کہا کہ یونیسیف نے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے وزارت تعلیم کی مدد کرنے کا وعدہ کیاہے اور یہ رقم مشاہرے کے طور پر براہ راست اساتذہ کے بینک کھاتوں میں چلی جائے گی جس سے جعلی اساتذہ کا پتہ بھی لگ جائے گا اور یہ امدادی رقم ان جعلی اساتذہ کو مل بھی نہیں سکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *