US-allied Syrian Democratic Forces commander warns of growing Daesh threatتصویر سوشل میڈیا

دمشق:(اے یو ایس)گذشتہ ماہ شام کے علاقے حسکہ کی ایک جیل پر خونریز حملے کے جلو میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر جنرل مظلوم عبدی نے کہا ہے کہ داعش خطے کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ اگر اس کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی گئی تو یہ دوبارہ پھلے پھولے گی۔مظلوم عبدی نے العربیہ چینل کے فلیگ شپ پروگرام خصوصی انٹرویو میں مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے امریکی اسپیشل فورسز کے ایک آپریشن میں تنظیم کے سربراہ کی ہلاکت کے باوجود خطرہ اب بھی زیادہ ہے۔

عبدی نے کہا کہ ہم داعش سے گھرے ہوئے ہیں۔ ہم یہ بات کئی بار کہہ چکے ہیں۔ اگر ہم نے ابھی داعش کا مقابلہ نہیں کیا تو یہ دوبارہ پھیل جائے گی۔بیس جنوری کو ’داعش‘ کی جانب سے شمال مشرقی شام میں کردوں کے زیر انتظام الصناعہ جیل پر حملے کے بعد سے شمال مشرقی شام میں فی الحال خاموشی ہے مگر یہ خاموشی عارضی ہے کیونکہ اس جیل میں ’داعش‘ کے 3,000 سے زیادہ جنگجو اور اس سے وابستہ کم سن جنگجو قید ہیں۔جیل پر حملے کے نتیجے میں امریکی حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں اور داعش کے جنگجوو¿ں کے درمیان 10 دن تک لڑائی جاری رہی جس میں تقریباً 500 افراد ہلاک ہوئے۔

آخر میں کرد جنگجو حالات پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔عبدی نے کہا کہ حملے کے بعد گروپ کے سلیپر سیل کو روکنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ اسی طرح کے حملوں کی زد میں آنے والے حراستی مراکز کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے اور حفاظتی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ کرفیو نے الحسکہ میں رات کے وقت نقل وحرکت کو محدود کر دیا ہے لیکن خطرہ برقرار ہے۔گذشتہ ہفتے امریکی اسپیشل فورسز کے ایک چھاپے میں شمال مغربی شام کے ادلب علاقے میں داعش کے رہ نما ابو ابراہیم القرشی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں مظلوم عبدی نے کہا کہ داعش کے سربراہ ابراہیم القرشی کے خلاف کارروائی کے لیے ہم نے امریکی فوج کی لاجسٹک مدد کی تاہم ہماری فورسز نے براہ راست زمین پر اس کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔اگرچہ جیل پر حملے کے بعد القرشی کی موت سے داعش کے حوصلے کو عارضی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ مگر عبدی نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ یہ کارروائی گروپ کے زوال کا باعث بنے گا۔ انہوں نے ’داعش‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انحصار مرکزیت پر ہے اور وہ مقامی حالات اور حرکیات کے مطابق مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *