US ‘clear-eyed’ about threat Hezbollah poses to Lebanon: State Departmentتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن،(اے یو ایس)ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی طرف سے لبنان کو درپیش خطرات کا توڑ کرنے کی امریکی پالیسی میں بنیادی اہمیت ہے۔ تاکہ لبنان کو استحکام نصیب ہو سکے۔ یہ بات جمعرات کے روز امریکی دفتر خارجہ کے سینئیر ذمہ دار ایثان گورڈریچ نے کہی ہے۔ایثان گولڈریچ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ہیں اور ‘مشرق نزدیک’ کے ملکوں سے متعلق امور کو دیکھتے ہیں۔ حزب اللہ جسے امریکہ اور بہت سے خلیجی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ آج کل لبنانی صدر کے انتخاب کے معاملے میں اثر انداز ہو رہی ہے۔حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے جمعرات کے روز ہی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ‘ ہم لبنان کے لیے ایسا صدر چاہتے ہیں جو امریکہ کے سامنے جھکنے والا نہ ہو۔لبنانی حکومت کے کنٹرول سے باہر یہ گروپ غیر معمولی طور پر اسلحہ سے لیس ہے۔ دوسری جانب دہائیوں سے موجود کرپشن نے بھی اس سلسلے میں لبنان کے لیے خوفناک کردار ادا کیا۔

لبنانی معیشت کی خرابی کے بارے میں عالمی بنک کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی بد ترین معیشتوں میں سے ایک ہے۔گولڈریچ نے کہا ‘ ہم بڑی صاف نگاہی سے حزب اللہ کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ لبنان کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے امریکہ حزب اللہ کی طرف سے ان خطروں کو روکنے کے لیے اپنے ضروری اسباب اختیار کرے گا۔ہم نے پہلے بھی پابندیاں لگائی ہیں تاکہ جو افراد بھی حزب اللہ کو مالی مدد دیں وہ پابندیوں کی زد میں آسکیں۔ اسی طرح کی مزید پابندیوں نے سمگلنگ کو نشانہ بنایا ہے ، ان پابندیوں کے ذریعے ایرانی تیل کی سمگلنگ رکی ہے جس سے ملنے والی رقم حزب اللہ تک پہنچتی تھی۔گولڈریچ نے ایک ”ویب نار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘ حزب اللہ کے اثر رسوخ کا مقابلہ کرنا اور لبنان کو استحکام دینا امریکہ کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل مقاصد میں شامل ہے۔ وہ اس بارے میں اپنا رد عمل دے رہے تھے کہ لبنان کا نیا صدر ‘امریکہ یا غیر ملکی طاقتیں بنائیں گی۔واضح رہے حزب اللہ شام کے حامی فرد کو سلیمان فرنگیہ کو لبنان کا صدر بنانا چاہتی ہے۔ جبکہ حزب اللہ کی مخالف جماعتیں آنجہانی لبنانی صدر رینیہ معوض کے بیٹے میشال معوض کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔مسلسل چلے آنے والے اس عدم اتفاق کی وجہ سے لبنان میں حالیہ عرصے کے دوران 11ویں بار صدر کے انتخاب میں ناکامی ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *