US plans to shift missile defence systems from the Middle East to Ukraineتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن:(اے یو ایس ) ریتھیون ٹیکنالوجیز ڈیفنس کے سی ای ا گریگ ہیز نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں متعین فضائی دفاعی نظام کی ایک رینج یوکرین کو منتقل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔گریگ ہیز نے امریکی میگزین “پولیٹیکو” کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد اگلے 3 سے 6 ماہ کے اندر اندر یوکرین کو این اے ایس اے ایم ایس کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائل سسٹم بھیجنا ہے۔ہیز نے وضاحت کی کہ پورے مشرق وسطیٰ میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین امریکی میزائل سسٹم بکھرے ہوئے ہیں اور یہ کہ امریکہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے کچھ اتحادی پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے دو ممالک کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو فی الحال ان نظاموں کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس سسٹم کو یوکرین کی طرف ری ڈائریکٹ کرنے کے لیےکام ہو رہا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مشرق وسطیٰ سے ان سسٹمز کی منتقلی تیزی کے ساتھ جاری ہے کیونکہ یہ ایک ایسا عمل جس میں 24 ماہ لگتے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ کو یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کی منتقلی کے لیے اس انتظام کو قبول کرنا پڑے گا۔ پینٹاگان کے ترجمان نے پولیٹیکو کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔میگزین نے نشاندہی کی کہ یوکرینی حکام کئی مہینوں سے امریکا پر دباو¿ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ روس کے میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے این اے ایس اے ایم ایس سسٹم بھیجے۔ان نظاموں کی رینج دیگر فضائی دفاعی آلات سے زیادہ ہے جو مغربی ممالک نے یوکرین کو بھیجے ہیں۔پہلے دو نظام نومبر کے اوائل میں یوکرین پہنچے تھے۔امریکا نے وعدہ کیا ہے کہ مزید سسٹم یوکرین کو بھیجے گا۔ امریکی فوج نے 2025 تک یوکرین کو ایسے چھ نظام فراہم کرنے کے لیے بدھ کے روز 1.2 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *