واشنگٹن:امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین ور افغاستان میں امریکی نمائندے مائیکل میک کوال نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے ایڈمنسٹریٹر کو ارسال کردہ مکتوب میں، جس پر ایوان نمائندگان کے کچھ دوسرے ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں، افغانستان کودی جانے والی انسانی اور ترقیاتی امداد کے طالبان کے ذریعہ غلط استعمال اور اس کو دیگر کاموں میں استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔خط میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ افغانستان میں انسانی بحران سے قطع نظر نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی لازمی ہے کہ امریکہ کی دی جانے والی امداد کے فائدے طالبان کے بجائے پریشان حال افغان عوام کو پہنچائے جائیں۔لیکن امارت اسلامیہ کی وزارت اقتصادیات نے امریکی نمائندوں کے خط میں بیان کردہ باتوں کی تردید کی اور کہا کہ کہ امارت اسلامیہ شفافیت کے ساتھ امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
نائب وزیر اقتصادیات عبداللطیف نظری نے کہا کہ ہم نہ صرف بین الاقوامی امداد میں مداخلت نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے مزید سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ ہماری نگرانی کا مقصد شفافیت کے ذریعے ان لوگوں تک پہنچنا ہے جو اس کے مستحق ہیں۔واضح ہو کہ اشرف غنی حکومت کی معزولی کے بعد جس کے باعث بین الاقوامی امداد معطل اور 9 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے منجمد ہو گئے، افغانستان شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہو گیا ہے۔ایک ماہر اقتصادیات سید مسعود نے کہا کہ اس امداد کا ضرورتمند عوام تک نہ پہنچنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ (طالبان) افغانستان میں اپنی من مانی کرتے رہنے اور مطلق العنانیت کے قائل ہیں۔یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ماہرین اقتصادیات نے خیال ظاہر کیا کہ بین الاقوامی امداد اس وقت تک معاشی چیلنجز کو حل نہیں کرے گی جب تک کہ اسے ترقیاتی منصوبوں پر نہیں لگایا جاتا۔ایک اور ماہر اقتصادیات عبدالبصیر تراکی نے کہا کہ 42 سال ہوچکے ہیں کہ ہمیں امداد فراہم کی جارہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم کوئی مثبت نتیجہ اخذ نہیں کرسکے اور اس کے نتائج اس وقت دیکھنے کو مل سکتے ہیں جب ہم بنیادی کام کرتے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 