Violent protests outside Iran embassy in London over Mahsa Amini's deathتصویر سوشل میڈیا

تہران:(اے یو ایس ) تہران میں زیر حراست نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت نے ایران کے اندر اور بیرون ملک کھلبلی مچادی۔ایران کے اندر اور باہرخواتین سمیت لاکھوں افراد امینی کے قتل کے بعد شدید غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں۔اتوار کے روز ایرانی سفارت خانہ واقع لندن کے باہر پر تشدد احتجاج کیا گیا ۔ اس دوران احتجاجیوں نے پولس پر پتھراو¿ بھی کیا۔پولس نے کارروائی کرتے ہوئے 5افراد کو حراست میں بھی لے لیا۔ قبل ازیں جنیوا میں،ترکی کے شہر استنبول میں ایرانی قونصل خانے کے باہر، نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب اور بیروت میں دورافتادہ مقام میدان شہداءمیں مہسا امینی کی پولس حراست میں موت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔یوں تو لوگ مختلف طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں لیکن ان میں سب سے نمایاں وہ احتجاجی مظاہرے ہیں جو تہران اور ایران کے دیگر شہروں میں 7 روز سے جاری ہیں۔

ان مظاہروں کے دوران ریاستی سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جب کہ ایرانی سکیورٹی نے سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں خواتین کی بھی کثیر تعداد ہے۔ایران میں اخلاقی پولیس کی جانب سے خواتین پر نقاب کی پابندی اور پردے کی صحیح تعلیمات پر عمل نہ کرنے والی خواتین کے ساتھ اس کے پرتشدد سلوک کی مذمت کے لیے ایران میں متعدد خواتین نے اپنے سروں کے اسکارف بھی جلا لیے ہیں۔ایران اور بیرون ملک خواتین نے بھی اپنے بال کٹوانے شروع کر دیے تاکہ ایران میں خواتین پر ہونے والے جبر کو ظاہر کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں دنیا بھر کے کارٹونسٹوں نے ایران میں خواتین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار ان کے بالوں والی ڈرائنگ کے ذریعے کیا، جو تہران کی حکومت کے لیے باعث تشویش بن گیا ہے۔اس تناظر میں، ٹویٹر پر شائع ایک کارٹون میں ایک خاتون کواپنے بالوں کو کنگھی کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس کارٹون میں خاتون کے بالوں میں کنگھی کے ذریعے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کی باقیات تلف کرتے دکھایا گیا ہے۔ایک اور ڈرائنگ میں ایران کا نقشہ دکھایا گیا، جس کے اوپر ایک عورت کا سر لٹکا ہوا تھا، جس نے ملک کو شمال سے جنوب تک ڈھانپ رکھا تھا۔ایرانی خواتین کے کھلے بال اب ایرانیوں کے مطالبات کی علامت بن چکے ہیں، جو خواتین کے مسائل سے آگے بڑھ کر ایرانی عوام کی آزادی، جبر اور دیگر شکایات کی عکاسی کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *