We want to work towards full diplomatic recognition,Lavrovتصویر سوشل میڈیا

ماسکو: روس نے پہلے تو اسلامی امارات کے ایک سفارت کار متعین ماسکو کو تسلیم کر لیا اور اب اس کے وزیر خارجہ سرگئی وکٹورووچ لاوروف کا کہنا ہے کہ اگر امارت اسلامیہ افغانستان میں ایک جامع حکومت قائم کرتی ہے تو روس افغانستان سے سفارتی سطح پرتعلقات قائم کرنے اور مکمل طور پر تسلیم کرنے کی جانب پیش رفت کرے گا۔

روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حکومت میں سب امارت اسلامیہ کے ارکان ہیں اور نگراں حکومت میں جامعیت کے بعد روس کے اگلے اقدامات کا تعین کیا جائے گا۔ہم افغانستان میں نئے حکام کو مکمل سفارتی سطح پر تسلیم کیے جانے کی جانب کام کرنا چاہتے ہیں، اس سمجھ کے تحت کہ وہ اپنے وعدے پر عمل کریں گے ایک جامع حکومت بنائیں گے۔اور محض اس پر اکتفا نہیں کریں گے کہ ان کی حکومت میں تمام نسلی گروہ ہیں کیونکہ اب ان کے پاس ازبک، تاجک اور حکومت میں ہزارہ ہیں لیکن وہ تمام طالبان کے سیاسی کارکنان کے طور پر ہیں۔ لیکن یہ سیاسی شمولیت ہے جو ہماری مزید پیش رفت کا تعین کرتی ہے ۔

لاوروف نے زور دے کر کہا کہ ماسکو اپنے سفارتی ذرائع سے امارت اسلامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ہم اپنے سفارت خانوں کے ذریعے، اپنے محکموں کے نمائندوں کے ذریعے طالبان کے ساتھ باقاعدہ رابطہ قائم کیے ہیں جو دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون کے مسائل پر بھی غور کرتے ہیں۔ دریں اثنا، ملک کے متعدد سیاست دان ایک جامع حکومت کے قیام کو افغان عوام کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔افغانستان کی قومی یکجہتی تحریک کے سربراہ، اسحاق گیلانی نے کہا کہ جب تک امارت اسلامیہ کی حکومت جامع نہ ہو، کوئی بھی ملک، نہ قریبی اور نہ دور درازکا، اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

کابل نے ماسکو کے ریمارکس کا خیرمقدم کیا، لیکن کہا کہ امارت اسلامیہ نے ایک جوابدہ اور جائز حکومت کے قیام کے لیے پہلے ہی اقدامات کیے ہیں۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ جب سفارتی اور سیاسی تعلقات پر بات ہوتی ہے تو ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ ایک اچھا قدم ہے۔ امارت اسلامیہ نے بھی اس سلسلے میں اقدامات کیے ہیں، اس نے ایک جوابدہ حکومت کی صورت میں ایسے اقدامات کیے ہیں جسے عوام کی حمایت اور مکمل قانونی حیثیت حاصل ہو ۔ایک جامع حکومت کا قیام، خواتین کے حقوق کا احترام اور افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ کرنے دینا بھی افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی شرائط میں شامل ہیں۔ امارت اسلامیہ کو اقتدار سنبھالے آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک کسی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *