پاکستان ،(اے یوایس )پاکستان، چین اور ایران تجارت کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کو فروغ دینے کے لیے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھا رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ اس بڑھتے تعاون کی وجہ وسطی ایشیا میں چین کا بڑھتا ہوا کردار اور پاکستان میں اقتصادی منصوبوں کا تحفظ ہے۔
جون کے اوائل میں بیجنگ میں سہ فریقی مذاکرات ہوئے، جس کے بعد پاکستان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے، جس میں ایک نئے علاقائی اتحاد کی تشکیل کا عندیہ دیا گیا۔جون کے اوائل میں، چین، ایران اور پاکستان نے پہلی بار انسداد دہشت گردی کے معاملے پر مشترکہ مذاکرات کیے۔ایک بیان میں، پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ’تینوں ممالک کے نمائندوں نے علاقائی سلامتی کی صورتحال بالخصوص خطے میں دہشت گردی کے خطرے پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔‘تینوں ممالک نے انسداد دہشت گردی اور سلامتی پر سہ فریقی مذاکرات کو باقاعدہ طور پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جون کے اواخر میں ایران اور پاکستان نے تہران میں سمندری تعاون کے ایک مفاہمت نامے پر دستخط بھی کیے تھے۔
پاکستان کے سیکریٹری دفاع حمود الزماں خان اور ایران کی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران سکیورٹی اور مشترکہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا ہے۔پاکستان ایران کا دو طرفہ سیاسی مشاورت (بی پی سی) کا 12واں دور بھی 17-18جون کو تہران میں ہوا، جس میں تجارت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ سکیورٹی کے مسائل اور خطے میں امن کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی الانا کی 14 جون کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور پاکستان کے حکام نے ’تکفیری دہشت گرد گروپوں‘ کے سدباب کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ ایران سنی انتہا پسندوں کے لیے ’تکفیری‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔
ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان کی سرحد پاکستان اور افغانستان سے منسلک ہے۔ یہ ایران کا وہ علاقہ ہے جہاں اسے سنی باغی گروہوں کی جانب سے چیلنج کا سامنا رہتا ہے۔ایران ’تکفیری‘ گروہوں کے حملوں سے پریشان ہے اور پاکستان کے ساتھ بات چیت اور تعاون کے ذریعے اس خطرے کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) جیسے علیحدگی پسند گروپوں کے حملوں میں بھی حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس علاقے میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تحت بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔جبکہ علیحدگی پسند گروہ بی ایل ایف بلوچستان میں چین کی سرمایہ کاری کی مخالفت کرتا رہا ہے اور ماضی میں چینی شہریوں اور اس سے متعلقہ منصوبوں پر بھی حملے کرتا رہا ہے۔
واشنگٹن میں ولسن سینٹر میں پاکستان فیلو باقر سجاد نے انڈیا کی وائن نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ’چین، پاکستان اور ایران کے درمیان سہ فریقی سکیورٹی ڈائیلاگ میکانزم کی ترقی کا مطلب ہے کہ وہ بلوچستان میں سکیورٹی کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔اسلام آباد نے اس سے قبل تہران پر کالعدم بلوچ باغی گروپوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔چین کی نارتھ ویسٹ یونیورسٹی کے پروفیسر یان وی نے ساو¿تھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ ’طالبان (افغانستان میں) اقتدار میں آ چکے ہیں، جس سے ایران سمیت وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں شدت پسندی کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔چین سی پیک سمیت بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے پرجوش منصوبے کے تحت اپنے منصوبوں کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ بیجنگ تہران اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں سرگرم ہے اور اسی لیے وہ اس معاملے میں دلچسپی لے رہا ہے۔اس کے علاوہ چین، ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ امن معاہدے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مزید آگے لے جانا چاہتا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 