work with Russia: Moscow jabs US on arms controlتصویر سوشل میڈیا

ماسکو:روس نے امریکہ کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اسلحہ کنٹرول معاہدوں کے ٹوٹ جانے کے الٹی میٹم دینا بند کرے۔ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس صرف اس صورت میں تخفیف جوہری اسلحہ معاہدے میں واپس آئے گا جب امریکہ اپنا معاندانہ و غیر دوستانہ موقف ترک کر دے گا۔ یہ اس لیے سامنے آیا ہے کیونکہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ روس 2010 میں طے پانے والے نئے تخفیف جوہری اسلحہ معاہدے سے، جس کے تحت روس اور امریکہ کی جانب سے نصب کیے گئے اسٹریٹجک جوہری اسلحہ کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے، باہر ہو رہا ہے۔

اسلحہ کنٹرول برائے روس کے پوائنٹ مین سرگئی ریابکوف نے کہا کہ امریکہ نے یہ معاملہ عوامی سطح پر لے جانے سے پہلے اس اقدام کے بارے میں روس کو آگاہ کر دیا تھا لہذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ لیکن اسلحہ کنٹرول معاہدے میں دراڑیں پڑنے لگی تھیںتھے اور امریکہ کی معاندانہ پالیسیوں کی وجہ سے جاں کنی کی حالت میں تھے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی غلطی سے، اس علاقے کے سابق فن تعمیر کے بہت سے عناصر یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا نیم جاں حالت کو پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ روس کو معاہدے کے تحت درکار کچھ اطلاعات فراہم کرنا بند کر دے گا۔ ان میں اس کے میزائل اور لانچر کے مقامات کی اپ ڈیٹس شامل ہوں گی۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ امریکہ نئے تخفیف جوہری اسلحہ کے بدلے روس کے ساتھ تحدید جوہری اسلحہ معاہدہ پر بات چیت شروع کرنے کا شدید خواہشمند ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *