Xi Jinping addresses Chinese Communist Party Congressتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ🙁 اے یو ایس ) چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اہم اجلاس مےں قومی سلامتی کے معاملوںکے علاوہ بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خےالات ہونے کے علاوہ شی پنگ کو صدر کے عہدے کے لئے تیسری بار چنا جائے گا ۔ اس اجلاس سے چینی صدر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کی جارحانہ پالیسیوں کی پارٹی مکمل تائید کررہی ہے۔

مبصرین کے مطابق اس کانگریس میں ہونے والے فیصلوں سے موجودہ صدر شی جن پنگ کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوگی۔صدر شی کو پہلے ہی کمیونسٹ چین کے بانی ماو¿زے تنگ کے بعد ملکی تاریخ کا سب سے طاقت ور حکمراں سمجھا جاتا ہے۔کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں تبدیلی سے متعلق اہم فیصلوں کی وجہ سے ہر پانج برس کے بعد ہو نے والے اس اجلاس کو دنیا بھر میں بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ 1921 میں پارٹی کے قیام کے بعد سے ہر پانچ برس بعد اس کانفرنس کا انعقاد کا تسلسل جاری ہے اور اس برس اس کا 20واں اجلاس ہونے جارہا ہے۔اس اجلاس میں ملک بھر سے پارٹی سے وفا داری اور اچھے طرز عمل کی بنیاد پر منتخب کیے گئے 3000 مندوبین تیانانمن اسکوائر پر واقع گریٹ ہال آف پیپل میں جمع ہوں گے۔جہاں کئی روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں بند دروازوں کے پیچھے اہم ترین فیصلے کیے جائیں گے۔ہر پانچ سال بعد ہونے والے نیشنل پارٹی کے اجلاس میں چین کی مستقبل کی پالیسیوں سے متعلق بنیادی خطوط متعین کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے متعلق اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔

اس برس کانگریس میں شریک ہونے والے مندوبین کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے ارکان اور ان کے متبادل کا انتخاب کریں گے جن کی تعداد 370 ہوگی۔اسی سینٹرل کمیٹی میں سے وزرا، مختلف اہم سرکاری محکموں اور اداروں کے سربراہان، پارٹی کے صوبائی قائدین اور فوجی حکام کا انتخاب کیا جاتا ہے۔امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار فارن ریلیشنز کے مطابق یہ سینٹرل کمیٹی چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرح کام کرتی ہے۔ اس کا سالانہ اجلاس منعقد کیا جاتا ہے جسے’ پلینم ا جاتا ہے۔نیشنل کانگریس کے دوران ہی سینٹرل کمیٹی اپنے پہلے اجلاس میں پارٹی کے پولیٹیکل بیورو کے 25 ارکان کا انتخاب کرے گی۔ پولیٹیکل بیور کو عرف عام میں پولٹ بیورو کہا جاتا ہے۔سینٹرل کمیٹی سے منتخب ہونے والے پولیٹیکل بیورو کے ارکان ایک قائمہ کمیٹی (اسٹینڈنگ کمیٹی) کا انتخاب کریں گے جس میں 5تا9 افراد ہوتے ہیں۔

اس کمیٹی کو چین میں اقتدار اور اختیارات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے پاس ہوتی ہے جس کا انتخاب بھی سینٹرل کمیٹی کرتی ہے۔چین میں کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکریٹری سب سے طاقت ور اور بااختیار عہدہ ہے۔ 1993 کے بعد سے پارٹی کا جنرل سیکریٹری ہی سربراہ مملکت ہوتا ہے جسے صدر کہا جاتا ہے۔چین میں چوں کہ فوج تکنیکی طور پر کمیونسٹ پارٹی کا مسلح ونگ تصور ہوتی ہے اس لیے اسے پیپلز آرمی کہا جاتا ہے اور اس کی سربراہی بھی پارٹی کے جنرل سیکریٹری کے پاس ہوتی ہے۔ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق اگرچہ پولٹ بیورو کے ارکان کی ریٹائرمنٹ کی کوئی باضابطہ عمر مقرر نہیں لیکن غیر رسمی طور پر 68 برس کی عمر متعین ہے۔لیکن 2012 میں جنرل سیکریٹری منتخب ہونے والے شی جن پنگ 69 برس کے ہوچکے ہیں اور متوقع طور پر انہیں تیسری مرتبہ پارٹی کی سربراہی اور ملک کی صدارت کے لیے منتخب کرلیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پولٹ بیورو کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے تین دیگر ارکان بھی ایسے ہیں جو عمر کی یہ حد پوری کرچکے ہیں تاہم وہ متوقع طور پر اس برس اپنی ذمے داریوں سے سبک دوش ہوجائیں گے۔چین میں وزیرِ اعظم ایک انتظامی عہدے اور وہ ملک کی اسٹیٹ کونسل کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کا انتخاب بھی پولٹ بیورو کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں شامل ارکان ہی میں سے کیا جاتا ہے جو ہر پانج سال بعد کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی نیشنل کانگریس ہی کے موقع پر کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *