Iran President Ibrahim Raisi calling for firm measures against countrywide protestsتصویر سوشل میڈیا

تہران: (اے یو ایس ) ایران میں پولیس کی حراست میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے مظاہرین کے خلاف فیصلہ کن انداز سے نمٹنے کا عہد کیا ہے۔صدر ابراہیم رئیسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ ‘فیصلہ کن انداز میں نمٹیں گے۔ اس وقت یہ مظاہرے ایران کے 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا سکی ہے۔مہسا امینی کو مبینہ طور پر حجاب پہننے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا جس کے دوران ان کی ہلاکت ہوئی تھی۔اخلاقی پولیس کے افسران نے مبینہ طور پر مہسا امینی کے سر پر ڈنڈے سے وار کیے اور ان کا سر پولیس کی ایک گاڑی سے دے مارا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کے تشدد کے شواہد موجود نہیں ہیں اور انھیں چانک دل کا دورہ پڑا تھا۔

جہاں ایک جانب رئیسی کا کہنا ہے کہ مہسا کی موت کی تحقیقات کی جائیں گی وہیں دوسری طرف ان کے وزیر داخلہ احمد واحدی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امینی پر تشدد نہیں کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ عینی شاہدین کے انٹرویو کیے گئے اور ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا۔ فرانسک تجزیے بھی حاصل کیے گئے جس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ان پر تشدد نہیں کیا گیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ملک کے درجنوں شہروں میں پرتشدد مظاہروں کا احوال دیکھا جا سکتا ہے۔ملک کے شمال مغربی شہروں پیرانشھر، مہ آباد اور ارمیا سے شیئر کی گئی کچھ ویڈیوز میں سکیورٹی اہلکاروں کو مظاہرین پر بظاہر گولیاں چلاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ ان کی جانب سے جو شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں ان میں ‘ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر دانستہ اور غیرقانونی فائرنگ کا پریشان کن سلسلہ دیکھنے کو ملا ہے۔’ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ بی بی سی کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔صدر رئیسی نے ان مظاہروں کو ‘فسادات‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو ‘ایسے افراد کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں نمٹنا ہو گا جو ملک کی سکیورٹی اور امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ملک کے شمال مغربی صوبے گیلان کے پولیس سربراہ نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ اب تک اس خطے میں 739 افراد جن میں 60 خواتین شامل ہیں کو حراست میں لیا گیا ہے۔بی بی سی نے ایسے افراد سے بات کی ہے جنھیں حراست میں لیا گیا تھا اور انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ایک شخص نے کہا کہ ان کو بے رحمی سے پیٹا گیا تھا اور پھر انھیں ایک ایسی جیل میں ڈال دیا گیا جہاں وہ سینکڑوں دیگر قیدی بھی تھے جنھیں کھانے، پانی اور رفع حاجت کی سہولت میسر نہیں تھی۔حکومتی اہلکاروں کی جانب سے آزاد میڈیا اور سماجی کارکنوں کے خلاف بھی کریک ڈاو¿ن کا آغاز کیا گیا ہے۔ امریکہ میں موجود ایک نگران ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک 11 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔مغربی سرحد پر موجود اشناویہ میں بی بی سی کو کچھ ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ مظاہرین نے مختصر دورانیے کے لیے حکومتی فورسز سے قصبے کے کچھ حصے کا کنٹرول لے لیا تھا۔

مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین نے گذشتہ شب کنٹرول حاصل کیا تھا اور یہ کہ سکیورٹی فورسز اور حکومتی عہدیدار وہاں سے بھاگ گئے تھے اور پھر سنیچر کو دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کے لیے پہنچے تھے۔قصبے سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک بڑے ہجوم کو شہر کی گلیوں سے گزرتے دیکھے جا سکتا ہے اور اس دوران پولیس کی موجودگی کے آثار نہیں دکھائی دے رہے لیکن زوردار دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔سرکاری میڈیا نے ایسی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ مظاہرین نے بسیج ادارے کی تین عمارتوں پر دھاوا بولا۔ یہ نیم سرکاری ادارہ حکومت کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر لگائی گئی انٹرنیٹ کی پابندیوں کو نرم کریں گے تاکہ تہران میں مظاہروں پر کریک ڈاو¿ن میں کمی لائی جا سکے۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ‘ایران باشندوں کو تنہا اور اندھیرے میں نہیں رکھا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *