Chinese company rejects rights accusation after US sanctionsتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ: دنیا کی سب سے بڑی ‘ جینیٹک اینالیسس( جینیاتی تجزیہ کرنے والی )کمپنیوں میں سے ایک بی جی آئی گروپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ کبھی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث نہیں ہوگی۔ امریکی حکومت نے پہلے کہا تھا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ اس کے کچھ یونٹ چینی نگرانی میں مدد کر رہے ہیں۔ بی جی آئی کے تین یونٹ چینی کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں جنہیں گزشتہ ہفتے ‘اینٹی لسٹ’ میں ڈالا گیا تھا۔ اس فہرست میں شامل کمپنیوں پر سیکورٹی یا انسانی حقوق کی بنیاد پر امریکی ٹیکنالوجی حاصل کرنے پرروک ہے۔

امریکی محکمہ تجارت نے ایک خطرے کا حوالہ دیا کہ بی جی آئی گروپ (چین کی)ٹیکنالوجی کی نگرانی میں اس کا ہاتھ بنٹا سکتی ہے۔ انسانی حقوق/سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے بارے میں جینیاتی معلومات کا ڈیٹا بیس بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چینی حکومت نے جمعہ کو امریکہ پر چینی کمپنیوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔ بی جی آئی نے کہا کہ اس کی خدمات صرف سول اور سائنسی مقاصد کے لیے ہیں۔ اس کمپنی کا ہیڈ کوارٹر چین کے شہر شینزین میں واقع ہے۔

بی جی آئی گروپ نے سوالوں کے ای میل کے جواب میں کہا کہ امریکی فیصلہ “ممکنہ طور پر غلط معلومات کی وجہ سے ہے اور ہم وضاحت فراہم کرنے کے لیے تیار اور قابل ہیں۔ گروپ نے اویغوروں یا دیگر مسلم اقلیتوں کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن وہ پہلے اس بات سے انکار کر چکا ہے کہ اس نے ان پر نگرانی کے لئے ٹیکنالوجی فراہم کی تھی۔ کمپنی نے کہا کہ بی جی آئی گروپ اس(الزام)پر یقین نہیں کرتا اور کبھی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *