فلوریڈا(اے یو ایس)فلوریڈا بورڈ آف ایجوکیشن نے، صدارتی دوڑ کے متوقع امید وار، گورنر رون ڈی سینٹیس کی درخواست پر، بدھ کے روز اول گریڈ سے لے کر بارہ گریڈ تک، تمام کلاسوں میں جنسی آگہی اور صنفی شناخت کے بارے میں تعلیم پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ فلوریڈا کی مقننہ سے منظور کیے جانے والےا س قانون کے ناقدین، اسے “ہم جنس پرست مت کہو” کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔محکمہ تعلیم کے ترجمان کے مطابق یہ تجویز ایک ماہ تک جاری رہنے والے طریقہ کار کے نوٹس کے بعد نافذ العمل ہوگی۔اس قانون کے منظور کیے جانے کے بعد سے اس کے خلاف احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔
منظور شدہ تبدیلی سے گریڈ 4-12 تک جنسی آگہی اور صنفی شناخت کے اسباق پر پابندی عائد ہو جائے گی، سوائے اس کے کہ موجودہ ریاستی معیارات کے تحت ان کی ضرورت ہو یا تولیدی صحت کی ہدایات کے حصے کے طور پر پڑھایا جائے، جسے طلبا نہ لینے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔فلوریڈا فی الحال کنڈرگارٹن سے تیسرے درجے تک اس طرح کی تعلیم پر پابندی لگاتا ہے۔ڈی سینٹیس انتظامیہ نے پچھلے مہینے اس تجویز کو ریپبلکن کے جارحانہ قدامت پسند ایجنڈے کے ایک حصے کے طور پر پیش کیا تھا۔
ڈی سینٹیس نے اس تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔انہوں نے پہلے ایجوکیشن کمشنر مینی ڈیاز جونیئر کو سوالات کا جواب دینے کی ہدایت کی تھی، جن کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد موجودہ قانون کے بارے میں ابہام کو واضح کرنا اور اس بات کو تقویت دینا ہے کہ اساتذہ موجودہ نصاب سے انحراف نہ کریں۔ڈیاز جونیئر نے بدھ کو کہا، ”ہم یہاں سے کچھ نہیں ہٹا رہے ہیں،ہم صرف توقعات تشکیل دے رہے ہیں تاکہ ہمارے اساتذہ واضح طور پر سمجھ سکیں کہ انہیں اسٹینڈرز کے مطابق پڑھانا ہے“۔
تصویر سوشل میڈیا