کابل:کئی عالمی رہنماؤں نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کو رن آف الیکشن میں شاندار جیت پر مبارکباد دی۔ رن آف الیکشن میں انہوں نے اپنے واحد حریف کمال الیک دار اوگلو کے مقابلہ 52 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے انہیں شکست دی۔ اردوغان کو امارت اسلامیہ کی عبوری حکومت کے ارکان سمیت تمام ممتاز افغان سیاسی رہنماو¿ں نے مبارکباد دی۔ اماراتی وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند نے بھی اردوغان کو رن آف الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی۔
وزارت خارجہ نے ٹویٹر پر کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ افغانستان اور ترکی کے درمیان دوستانہ تعلقات برقرار رہنے کی امید رکھتے ہیں۔ سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سابق چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے اردوغان کو مبارکباد دی۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربن سب سے پہلے اردوغان کو مبارکباد دینے والوں میں شامل تھے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ترکی میں استحکام ہے تو اس سے ہمیں، ترکی کو اور پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا اور کہا کہ امارت اسلامیہ ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار توریک فرہادی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے یہ اردوغان ہی ہیں جنہوں نے لڑکیوں کے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے اور معاشرے میں خواتین کی شمولیت کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ ترکی ملک میں اقتصادی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ۔ ایک ماہر اقتصادیات سیار قریشی نے کہا کہ ترکی افغانستان کی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ افغانستان میں ترک کمپنیاں کان کنی سے لے کر صنعت تک مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔ اس دوران ترکی میں موجود کچھ افغان مہاجرین نے بھی الیکشن میں اردوغان کی جیت کا جشن منایا۔ ایک افغان صحافی نور احمد یورتادش نے کہا کہ اس جیت سے ترکی میں مقیم مہاجرین اور یہاں رہنے والے افغانستان کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ترکی کی سپریم الیکشن کونسل کے مطابق اردگان نے 52.14 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔کمال کلیکدار اوگلو کو 47.86% ووٹ ملے۔
تصویر سوشل میڈیا 