اسلام آباد :بین الاقوامی زر فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈ اور حکومت پاکستان کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے مدد کرنے کے پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزوں کی منظوری دیتے ہوئے اس کی زر مبادلہ کی تنگی کی شکار معیشت کو 1.1 بلین ڈالر سے زیادہ کی ریلیز کی اجازت دے دی۔ قبل ازیں بین الاقوامی زر فنڈ(آئی ایم ایف) کے ڈائریکٹر کرشٹا لینا جارجیوا کے ساتھ فون پر بات کی اور انہیں بتایا گیا کہ ادارے نے ان کو جو معاشی اصلاحات کے لئے شرائط رکھے تھے پاکستان ان پر عمل نہیں کررہا ہے اور اس سے پاکستان معاشی طور پر برباد ہوجائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان حکومت اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لانا چاہتا ہے جب اس کے پاس صرف ساڑھے چار بلین ڈالر ہی رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کو پاکستان کی پالیسیوں پر اعتراض ہے اور اعتماد کا فقدان ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا ایک وفد جینیوا کانفرنس میں شمولیت کرے گا جہاں پاکستان کے سیلاب زدہ لوگوں کے لئے ایک پیکیج کا اعلان کرے گا۔ عالمی مالیاتی فنڈ کایہ وفد وزیرخزانہ عیسیٰ ڈار سے بھی بات چیت کرےںگے۔ اس دوران وزیراعظم پاکستان کو مالی بحران سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ اس نے دوست ملکوں سے بھی رابطہ قائم کیا ہے اور استدعا کی کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستا ن کو مدد کرے۔ لیکن وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اگر ہم نے آئی ایم ایف اے کی شرائط منظور کرلیں تو ملک میں مہنگائی کا طوفان آجائے گا اور ضروریاتی زندگی کی چیزوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوجائے گا۔ پاکستان پچھلے اکتوبر سے اس کوشش میں لگا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے مزید ایک بلین ڈالر کا قرضہ حاصل کرے لیکن ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا