"It is Power of the Chief Justice to form a full Court" |تصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد (اے یوایس ) عدالت عظمیٰ نے عدالتی اصلاحات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر ہونے والی پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کیا ہے جبکہ اٹارنی جنرل کی جانب سے حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کی گئی ہے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے۔

ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔‘انھوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ’سات سینیئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔‘عدالتی اصلاحات کے معاملے پر سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے تحریری جواب مانگا ہے اور سماعت 8 مئی تک ملتوی کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *