Pak economy facing its worst crisisتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان کی معاشی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان کی وزارت خزانہ کا اندازہ ہے کہ 2022-2023 کے درمیان ملک کی افراط زر 21 سے 23 فیصد کے درمیان بلند رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2022-2023 میں جولائی اور اکتوبر کے درمیان جنوبی ایشیائی ملک کے مالیاتی خسارے میں 115 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے باعث سال 2023 کی اقتصادی ترقی کی شرح بجٹ کے ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔ ترقی کی کم شرح، بلند افراط زر اور سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی پالیسی سازوں کے لیے ایک مشکل اور اہم چیلنج ہے۔

ڈان اخبار کے مطابق جمعہ کو وزارت خزانہ کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جولائی تا اکتوبر 2022 تک حکومت کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 1.5 فیصد (1.266 ٹریلین روپے) ہے۔ اسی وقت، سال 2021 میں یہ جی ڈی پی کا 0.9 فیصد (587 بلین روپے)تھا۔ زیادہ مارک اپ ادائیگیوں کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ سے مالیاتی کمی واقع ہوئی ہے۔ دریں اثنا حکومت پاکستان کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔

ای اے ڈبلیو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2023 کے پہلے پانچ مہینوں میں اوسط صارف قیمت انڈیکس 25.1 فیصد رہا ہے جو 2021 میں 9.3 فیصد رہا تھا۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق، سی پی آئی افراط زر 21-23 فیصد کی حد میں رہے گا۔ ڈان کی رپورٹ نے جولائی تا نومبر مالی سال 2023 کے لیے کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 3.1 بلین ڈالر ظاہر کیا۔ اس کی بنیادی وجہ تجارتی توازن میں بہتری ہے جبکہ گزشتہ سال 7.2 بلین ڈالر کا خسارہ تھا۔ نومبر میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 276 ملین ڈالر رہا جو اکتوبر میں 569 ملین ڈالر تھا۔ معیشت لیکن سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *