کراچی:(اے یو ایس)پاکستان کے علمائے دین نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیا۔اور کہا کہ یہ اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔ ان میں اکثر علمائے دین کا تعلق دیوبند مسلک سے ہے۔ علمائے دین نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں پر اسلامی ریاست میں حملہ کرنا حرام او راسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
یہ فتویٰ اس وقت پیش آیا جب تحریک طالبان پاکستان کے رہنماءمفتی نور ولی محسود نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ پاکستانی مذہبی رہنماﺅں کی جہاد کے بارے میں صلاح اور مشورہ حاصل کریںگے۔ فتوے میں کہاگیا کہ کوئی غیر سرکاری تنظیم جہاد کا اعلان نہیں کرسکتے۔
اس میں کہاگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ عوام کو اپنے امیر کے حکم کی تابعداری کرنی چاہئے۔ اس فتوے پر 16علمائے دین نے دستخط کئے۔ اور کہا کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائے۔ اس میں یہ بھی کہاگیا کہ جو لوگ ملک کے لئے اپنی جانیں دیںگے ان کو شہید کا درجہ ملے گا۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ اس فتوے پر شیخ الحدیث قاری احسان الحق ،مفتی سبحان اللہ جان، ڈاکٹر عطاءالرحمن ،ڈاکٹر عبدالناصر،مفتی مختار اللہ حقانی ،مولانا طیب قریشی،مولانا سلمان الحق حقانی ،مفتی معراج الدین سرکافی، مفتی شیخ اعجازاورمولانا عبدالکریم دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا