اسلام آباد(اے یو ایس)مسلم لیگ (نواز م) میں پھوٹ کے آثار نظر آرہے ہیں اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان پارٹی کے دوسرے کئی رہنماﺅں کے ساتھ پارٹی چھوڑنے پرسنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ مسٹرعباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل جنہیں حال ہی میں اس عہدے سے ہٹایا گیا مسلم لیگ کی قیادت سے ناخوش ہیں۔ اورانہیں جماعت میں حاشیے میںڈ الا گیا ہے۔پہلے مفتاح اسماعیل جو ملک کی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کررہاتھا کو اچانک وزارت کے عہدے سے ہٹایا گیا اور اس کی جگہ اسحاق ڈار کو یہ عہدہ دیاگیا کیونکہ وہ شریف خاندان کے قریبی رشتے داروں میں سے ہے حالانکہ اسحاق ڈار نے مفتاح اسماعیل کو پاکستان کی معیشت کو خراب کرنے کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔
جب اس نے خود یہ عہدہ سنبھالا تو حالات مزید سنگین ہوگئے اور پاکستان کا زر مبادلہ صرف چار ارب ڈالر رہا۔مفتاح اسماعیل کی یہ شکایت ہے کہ انہیں لندن بلاکر نواز شریف نے استعفیٰ دینے کو کہا شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فی الوقف مسلم لیگ سے استعفیٰ دینے کی بات کو قیاس آراسی قرا ر دیااوریہ بھی کہا کہ وہ کوئی نئی جماعت نہیں بنارہے ہیں جبکہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں نے دو بار الیکشن ہارا اور میں کیسے سیاسی جماعت بناﺅں گا۔لیکن قریبی حلقوں سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شاہد خاقان عباسی استعفیٰ کی پیشکش کی ہے۔ مسلم لیگ کے بہت سارے رہنما یہ محسوس کررہے ہیں کہ شریف خاندان کی اجارہ داری نے پارٹی کو تباہ وبرباد کیا اور و ہ سنجیدہ ورکروں اور رہنماﺅں کو پنپنے ہی نہیں دیتے ہیں۔
ایک طرف شہباز شریف ملک کا وزیراعظم رہا ہے تو دوسری طرف ان کا بیٹا حمزہ شہبازپنجاب کا وزیراعلیٰ رہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سابق سنیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر،فواد حسن فواد ،خواجہ محمد کوچی ،حاجی لشکر ی ریاسانی اور اسد شمشاد ایک جماعت کی تشیکیل دے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ن لیگ کے کچھ رہنما ہی شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے بارے میں افواہیں پھیلا رہی ہے۔ مسلم لیگ کے رہنما مفتاح اسماعیل کے تبصرے کے بارے میں ناخوش ہیںوہ وزیراسحاق ڈار کے معاشی پالیسیوں کے خلاف ہے۔ دون دن پہلے وزیراعظم کے بیٹے سلیمان شہباز نے مفتاح اسماعیل کی تنقید کی اور اسحاق ڈار کی تعریفیں کیں۔ شاہد خاقان عباس نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں مانے جاتے تھے لیکن دو ہفتے پہلے انہوں نے مسلم لیگ کی ایک میٹنگ میں نواز شریف کی کچھ پالیسیوں پر اتفاق رائے کیا۔ اور اس سے نواز شریف ناخوش ہوئے۔
تصویر سوشل میڈیا 