واشنگٹن(اے یو ایس ) امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے منگل کو میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کا پاکستان میں کسی بھی سیاسی امیدوار کی طرف جھکاﺅ نہیں ہے۔
پاکستان میں جاری سیاسی افراتفری کے دوران انسانی حقوق کے احترام سےمتعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ” ہم پاکستان سمیت دنیا بھر میں قانون کی بالادستی، آزادی اظہارِ رائےاور منصفانہ جمہوری اصولوں کے احترام پر زور دیتے ہیں اور پاکستان پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہاں تمام شہریوں کے لیے ان اصولوں کا احترام کیا جائے۔”پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا، جبکہ شاہ محمود قریشی کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ و
اضح رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد نو مئی کے پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں اب تک تحریکِ انصاف کے سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے جب کہ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماﺅں سمیت کئی لیڈر پارٹی سے راہیں جدا کر چکے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی جماعت کے رہنماﺅں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور وہ ان کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

