ہنوئی:ویتنام کے وزیر اعظم فام مینھ چن نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں چینی بحریہ کوسٹ گارڈ کی سرگرمیاں ویتنام اور انڈونیشیا حتیٰ کہ غیر آسیان ممالک کے لیے جو بھروسے، دوستی اور عتماد کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ سمندری تعاون کو فروغ دیتے ہیں، چینی سرگرمیوں کے باعث تشویش میں مبتلا ہیں۔ چن نے مذکورہ باتیں 10 مئی 2023 کو انڈونیشیا کے شہر لابوان باجو میں 42ویں آسیان سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس کے دوران کہیں۔ بحیرہ جنوبی چین میں بحری ملیشیا کی سرگرمیاں ایک مشترکہ تشویش ہے اور یہاں تک کہ غیر آسیان ممالک جو سمندری تعاون کو فروغ دیتے ہیں جس کا مقصد اعتماد، دوستی اور اعتماد کو بڑھانا ہے، چینی کارروائی سے پریشان ہیں۔
انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدوڈ نے چن کی،جن کے ساتھ انہوں نے دوطرفہ امور اور اس سال اپنی سٹریٹجک شراکت داری کی 10ویں سالگرہ پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میںمیزبانی کی۔دونوں رہنماو¿ں کی توجہ کا مرکز دو طرفہ سمندری سلامتی چیلنجز تھا۔ اول یہ کہ غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ، اور غیر منظم ماہی گیری کی نگرانی کے لیے ایک ہاٹ لائن قائم کی جانی چاہیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں سمندری پڑوسیوں نے 12 سال تک چلنے والے سخت مذاکرات کے بعد دسمبر 2022 میں ای ای زیڈ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم نہ تو انڈونیشیا اور نہ ہی ویتنام نے اس بارے میں کوئی واضح وضاحت جاری کی ہے کہ سرحد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے۔ نتیجةًانڈونیشیا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بحیرہ شمالی نٹونا میں 136 ویتنامی ماہی گیری جہاز ضبط کر لیے۔
تصویر سوشل میڈیا 