Iranian nobel laureate describes protests as people's revolutionتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن:نوبل امن انعام یافتہ شیریں عبادی نے ایران میں مہینوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کو عوامی انقلاب قرار دیا ہے۔ گذشتہ دنوں آر ای ایف/آر ایل کی جارجین سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں عبادی نے کہا کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں نے ظاہر کر دیا ہے کہ ایرانی عوام اسلامی جمہوریہ نہیں چاہتے۔

عبادی نے ، جو جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، کہا کہ ایرانی عوام ایک جمہوری اور سیکولر حکومت چاہتے ہیں ۔صرف ایک جمہوری اور سیکولر حکومت ہی احتجاج ، نعرے، ‘خواتین، زندگی اور آزادی کو حقیقت دے سکتی ہے ۔ستمبر میں مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی، جسے اخلاقی پولس نے اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ اپنے والدین کے ہمراہ حجاب کے بغیر تہران کی سرخوں پرگھوم رہی تھیں،دوروز بعد پولس کی حراست میں ہی موت کےبعد پھوٹ پڑے جس نے رفتہ رفتہ ملک گیر شکل اختیار کر لی اور ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے پولس نے بھی اپنی کارروائی شروع کر دی اور متعدد افراد ہلاک وگرفتار ہو گئے ۔

واضح ہو کہ ہیڈ اسکارف کا قانون 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے حکومت کرنے والی ایران کی علما کی حکومت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک بن گیا ہے۔تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق حالیہ ایام میں مغربی شہر ایزہ میں جاری مظاہروں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک نو سالہ اور ایک 13 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ منگل کے روز نئے تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب تہران کے میٹروا سٹیشن پر سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *