Muslims in India can speak freely unlike Pakistan: Maulana Sajid تصویر سوشل میڈیا

نیشنل ڈیسک: وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے توہین آمیز بیان پر بی جے پی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ملک گیر پیمانے پر احتجاج کیا۔ اسی کے دوران کل ہند امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد راشدی نے بھی و زیر اعظم مودی پر کیے گئے ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مولانا ساجد راشدی نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو دوسرے مسلم ممالک کے برعکس آزادی سے بات کرنے کا حق ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔

پڑوسی ملک کو نشانہ بناتے ہوئے مولانا راشدی نے کہا کہ پاکستان میں آئے روز مساجد اور مزارات پر دھماکے ہوتے ہیں۔ مسلکی دہشت گردی و تشدد عام ہے ۔ جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں وہ سراسر قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت دیگر مسلم ممالک کے مقابلے بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان حکومت کے خلاف بول سکتے ہیں کیونکہ آئین انہیں بولنے کی اجازت دیتا ہے۔ مولانا ساجد نے کہا کہ پاکستان میں حکومت اور فوج کے خلاف بات کرنا خطرے کی بات ہے لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے۔

ایک مسلمان آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کے خلاف اور عدالت کے خلاف بھی بول سکتا ہے۔ ہاں مسلمان اپنی مرضی کے مطابق اور اپنی پسند سے زندگی گزار رہے ہیں،کسی دبا میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بادشاہوں کے خلاف بولنے پر لوگوں کو پھانسی دی جاتی ہے۔ لیکن ہندوستان کا ایک خوبصورت آئین ہے، جس کے تحت آپ اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ واضح کریں کہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی دہشت گردی کی حمایت پر پاکستان پر حملہ کرنے کے بعد بھٹو نے پی ایم مودی پر نازیبا تبصرہ کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *