اسلام آباد مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور اپنی تاریخ کا حساب دیں۔ان کا خطاب میں کہنا تھا ’جن لوگوں نے آئین بنانے کی طاقت ایک وردی والے شخص کے سپرد کی اور اسے آئینی ترمیم کا بھی اختیار دیا۔ جنرل مشرف کو، ان کا کوئی احتساب ہوگا۔ ‘خواجہ آصف کا کہنا تھا ’ہم لوگ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن متحارب تھے، بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے چارٹرڈ آف ڈیموکریسی سائن کیا۔
اس کے بعد دو اسمبلیوں نے مدت پوری کی‘۔ان کا کہنا تھا ’یہ مقتدر ادارہ آئین کا محافظ ہے۔ آئین سے ماورا کوئی چیز نہیں ہوگی۔‘انھوں نے کہا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تاریخ کا حساب دیا جائے۔ ’ہم ہر پانچ سال بعد عوام کو حساب دیتے ہیں۔ ہماری تنخواہ ایک لاکھ 68 ہزار ہے۔ ان سے پوچھیں ان کی کیا تنخواہ ہے۔‘انھوں نے کہا ’ایک سپیشل کمٹی بنائی جائے۔ جو آئین کی پامالی کا حساب لے۔ ہم اپنے پرکھوں کا حساب دے رہے ہیں یہ اپنے پرکھوں کا حساب دیں۔‘ انھوں نے ججوں سے کہا ’اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔‘خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ اس دنیا میں نہیں ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔ جو زندہ ہیں انھیں بھی بلائیں۔ آئین شکنی کرنے والوں کو بلائیں۔ پارلیمنٹ ہتھیار نہیں ڈالے گئی۔
پارلیمنٹ وزیر اعظم کو بلی نہیں چڑھائے گی۔‘انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’کمیٹی بنائیں اور ججوں پر مقدمے ہوں چاہے وہ زندہ ہیں یا مر گئے۔ تاکہ نئی نسل کو پتا چلے کہ ان کی کیا اوقات ہے۔ ‘خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’1947 سے لے کر اب تک انھوں نے کیا کیا گ±ل کھلائے ہیں۔ جتنے حملے اِنھوں نے کیے ہیں پارلیمنٹ نے نہیں کیے۔ ‘انھوں نے کہا ’اپنی ماضی کی غلطیوں پر ہم سب سے معافی مانگتے ہیں انھیں بھی معافی مانگنے دیں۔
تصویر سوشل میڈیا