Secretary Antony J. Blinken with Washington Post Columnist David Ignatius on the State of Press Freedom Worldwideتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن(اے یو ایس )اگر امریکہ میں جمہوریت اور گہری سیاسی تقسیم پر نیوز میڈیا پر اثرات کی بات ہو تو بہت سے امریکی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ اس کے اثرات مثبت سے زیادہ منفی ثابت ہو رہے ہیں۔ایسوسی ایٹڈپریس این او آر سی سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ اور رابرٹ ایف کینیڈی ہیومن رائٹس کے تحت کرائے گئے ایک نئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریباً تین چوتھائی بالغ امریکیوں کا کہنا ہے کہ نیوز میڈیا ملک میں سیاسی تفریق کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ جب کہ نصف امریکی یہ کہتے ہیں کہ انہیں میڈیا کی جانب سے منصفانہ اور درست طریقے سے خبریں رپورٹ کرنے کی صلاحیت پر بھروسہ نہیں ہے۔صحافت کی آزادی کا عالمی دن جو بدھ کو منایا جا رہا ہے، اس سے پہلے جاری ہونے والے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت کو ان غلط معلومات کی فراہمی کے بارے میں شدید خدشات ہیں جنہیں پھیلانے میں سیاست دانوں اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ خود میڈیا بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ صحافیوں کی سلامتی سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔

ریاست کنساس کے قصبے ہیچن سن کی 53 سالہ باربرا جارڈن، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، کہتی ہیں کہ خبریں لوگوں میں اشتعال پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے اب وہ ٹی وی پر خبریں دیکھنے کی بجائے خود انٹرنیٹ پر جا کر تحقیق کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آپ کسی چیز کے متعلق گوگل پر جا کر ریسرچ کرلیں اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ٹی وی سے زیادہ انٹرنیٹ پر بھروسہ کرتی ہوں۔اعتماد ٹوٹنے کے عمل نے بہت سے امریکیوں کو مرکزی دھارے کے نیوز میڈیا سے دور کر دیا ہے۔ اور وہ اکثر اوقات سوشل میڈیا اور ناقابل بھروسہ ویب سائٹس کا اثر قبول کرلیتے ہیں جو گمراہ کن دعوے پھیلاتے ہیں جس سے سیاسی تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے۔تاہم امریکیوں کی ایک محدود تعداد کا کہنا ہے کہ انہیں خبروں کو مکمل اور منصفانہ طور پر رپورٹ کرنے کے بارے میں نیوز میڈیا کی صلاحیت پر کسی حد تک بھروسہ ہے۔ صرف 16 فی صد امریکی کہتے ہیں کہ وہ نیوز میڈیا پر بہت اعتماد کرتے ہیں جب کہ 45 فی صد نیوز میڈیا پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے۔

سروے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بہت سے امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ نیوز میڈیا پر گہرائی میں جا کر پیش کی جانے تحقیقاتی رپورٹنگ ان مسائل کو سمجھنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتی ہے جن کے بارے میں وہ متفکر ہوتے ہیں۔لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ عموماً خبریں تفصیل سے پڑھنے کی بجائے صرف ان کی سرخیوں پر نظر ڈالنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ تاہم ایک ایسے وقت میں جب کہ نیوز میڈیا پر عمومی طور پر اعتماد کی کمی ہے۔ رائے دہندگان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ میڈیا کم از کم ان مسائل کو بہتر طور پر اجاگر کر رہا ہے جو ان کے لیے اہم ہوتے ہیں۔10 میں سے 4 رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ پریس امریکی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے زیادہ کام کر رہا ہے، جب کہ 10 میں سے صرف 2 افراد نے یہ رائے دی کہ پریس جمہوریت کے تحفظ کے لیے زیادہ کام کر رہاہے۔ 10 میں سے بقیہ 4 رائے دہندگان نے کہا کہ پریس کا اس پر اطلاق ہی نہیں ہوا۔نیو یارک کے لانگ آئی لینڈ پر رہنے والے ریپبلکن جو سلیگنا نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے خبروں کے چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بہت سے امریکیوں کو ایک دوسرے کو دشمن کے طور پر دیکھنے کے لیے تیار کر کے اس مسئلے کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔50 سالہ سلیگنا نے اے پی کو بتایاکہ،”میرے خیال میں یہ چیز ملک کو توڑ رہی ہے۔اور 2016 کے انتخاب کے بعد سے صورت حال میں بہت بگاڑ پیدا ہوا ہے“۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *