کابل:امارت اسلامیہ نے قطر سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں سرمایہ کاری کرے۔حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی نگراں حکومت کے عہدیداروں نے قندھار کے دورے پر آنے والے قطری وفد سے ملاقات میں ان سے افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے کو کہا۔ قطر کا ایک وفد ملک کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کی قیادت میں جمعے کو قندھار پہنچا اور امارت اسلامیہ کے حکام سے بات چیت کی۔ مجاہد نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے قطر سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہافغان رہنماؤں نے قطر سے کہا ہے کہ بعض ممالک کے خدشات اور شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے سفارت کاری میں موثر اقدامات کرے۔ لیکن بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے وزیر اعظم امارت اسلامیہ کے لیے ایک اہم پیغام لے کر آئے ہیں۔ ایک سیاسی تجزیہ کار برنا صالحی نے کہا کہ طالبان کے حامی قطر نے طالبان کو یہ پیغام دینے کے لیے کہ وہ اب بھی طالبان کی حمایت کرتے ہیں لیکن آپ کے اقدامات سے بین الاقوامی سطح پر قطر کی ساکھ اور پوزیشن متاثر ہوگی، خود اپنے وزیراعظم کو طالبان کا حامی بنا کر بھیجا ۔ حالیہ (دوحہ) اجلاس کے بعد خطے کے ممالک کی طرف سے دوسرا پیغام طالبان کے بارے میں تشویش کے حوالے سے تھا۔
سیاسی تجزیہ کار نعمت اللہ بیژن نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری قطر کے توسط سے طالبان سے تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ قطر کے زبردست اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا