بیجنگ:چین نے افغانستان کو مستحکم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس ضمن میں چین کے وزیر دفاع لی شانگ فو نے افغانستان میں استحکام کے لیے چین کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چین اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر ملک میں استحکام کی بحالی کے لیے کام جاری رکھے گا۔چینی وزیر دفاع نے یہ اظہار خیال 20ویں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ا سٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) شانگری لا مذاکرات میں کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین نے افغانستان کو 49 ملین ڈالر سے زائد کی انسانی امداد فراہم کی ہے۔ شانگ فو نے مزید کہا کہ چین نے بین الاقوامی کانفرنسوں کی میزبانی کی ہے اور افغانستان کی صورتحال سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ دریں اثنا امارت اسلامیہ نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں صورت حال کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرے۔
امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ پالیسی افغانستان میں استحکام اور سلامتی کے لیے جاری رہے۔ یہ خطے کے لیے اہم ہے۔ علاقائی ممالک اور قریبی ممالک کو اسے سمجھنا چا ہئے اور امارت اسلامیہ کی حمایت کرنی چاہئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا کہ چین افغانستان میں ایک جامع حکومت کی تشکیل چاہتا ہے۔ ایک سیاسی تجزیہ کار توریک فرہادی نے کہا کہ چین افغانستان میں ایک جامع اور ترقی پسند حکومت چاہتا ہے ۔چین کا خیال ہے کہ اس سے افغانستان میں استحکام آئے گا۔ سیاسی تجزیہ کار توریالائی زازئی نے کہاکہ چین کے افغانستان میں اقتصادی اور سیاسی مقاصد ہیں لیکن چین کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرے گا جو چین کے مفاد میں نہ ہو۔
قبل ازیں چینی صدر شی جن پنگ نے چین۔وسطی ایشیاسربراہی اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ملک امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے افغانستان کے عوام کی مدد کرتا رہے گا۔
تصویر سوشل میڈیا