کابل: طالبان کے رہبر اعلیٰ مولوی ہیبت اللہ اخندزادہ نے ملک کے تعلیمی معیار میں بہتری لانے کے لیے صوبائی محکمہ تعلیم کے سربراہوں سے ملاقات کی۔ملاقات کے حوالے سے امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امیر المسلمین نے میٹنگ میں تمام صوبائی محکمہ تعلیم کے سربراہوں کو کچھ ہدایات دیں جن کا مقصد بہتر تدریس کو فروغ دینا اور تعلیم کو ان علاقوں تک پھیلانا تھا جہاں ابھی تک تعلیم تک رسائی نہیں ہے اور نا خواندگی کا دور دورہ ہے۔
اجلاس کے شرکا میں شامل صوبہ پروان کے محکمہ تعلیم کے سربراہ محمد حسن حقانی نے کہا کہ انہوں نے پرائمری اسکولوں کے لیے نصاب کو حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسکول اور مدرسے کا نصاب ایک جیسا ہونا چاہئے تاکہ اسکولوں اور مدرسوں کے درمیان فرق کم ہو۔
مجاہد نے کہا کہ اس میٹنگ میں درجہ ہفتم تا دیازدہم ( ساتویں سے 12ویں جماعت) کی لڑکیوں کے اسکولوں کو دوبارہ کھولنے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ میرے خیال میں اس مسئلہ کا تعلق ڈائریکٹرز ک سے نہیں ہے یہ مسئلہ مذہبی علما کا ہے وہی اس کے بارے میں فیصلے کریں ۔ امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دجہ ششم سے آگے کی طالبات کو ا سکول جانے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ بہارہ نام کی ایک طالبہ نے کہا کہ میں مزید تعلیم حاصل نہیں کر سکتی لیکن مجھے اس کی اجازت ہونی چا ہئے ۔ چھٹی جماعت سے اوپر کی طالبات کے لیے اسکولوں کی بندش کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 