واشنگٹن: امریکہ کے خصوصی ایلچی تھامس ویسٹ رواں ہفتہ کے دوران برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کا دورہ ریں گے جہاں وہ ان ہر دو مالک کے رہنماو¿ں سے افغانستان کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ تھامس ویسٹ نے اس ضمن میں ٹوئٹر کے توسط سے کہا کہ وہ افغانستان میں مشترکہ مفادات کے حوالے سے برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے رہنماو¿ں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے اس ہفتے لندن اور ابوظبی کا دورہ کریں گے۔
ایک سیاسی تجزیہ کار عزیز مریج نے کہا کہ 21جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل افغانستان کے معاملہ پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس کر رہی ہے اس کے علاوہ ناروے میں بھی افغانستان پر ہی ایک اجلاس ہونے والا ہے اس طرح امریکہ فغاانستان کے معاملے سے لاتعلق نہیں رہے گا۔ تاہم امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ دورے افغانستان کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرنے کا کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب مجاہد نے یہ بھی کہا کہ افغان شکایت کر رہے ہیں کہ ان کے حقوق غصب کر لیے گئے ہیں اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔
امریکہ کی طرف سے ان کے بینکوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، اور بڑے منصوبوں کو اب بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور افغانستان کو تسلیم نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ یہ سب نقصان دہ ہے اور اس طریقہ کار کو بدلنا چا ہئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا امریکی کردار اور افغانستان کے لیے اس کے نمائندہ کے دوروں پر مختلف نظریات ہیں۔ ایک سیاسی تجزیہ کار عبدا شکور دادرس نے کہا کہ امریکا ایک نظام پر بنا ہے۔ اس کے اہداف پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں اور افغانستان اس سے محفوظ نہیں ہے ۔ قبل ازیں ویسٹ کئی دیگر علاقائی اور یورپی ممالک بشمول ہندوستان، متحدہ عرب امارات ،قطر، پاکستان، سوئزرلینڈ، جرمنی اور ترکی کا دورہ کر چکے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا