دوشانبے:روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک بار پھر افغانستان میں ایک جامع حکومت قائم کیے جانے کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا ۔ لاوروف نے جو دو روزہ دورے پر پیر کو تاجکستان پہنچے ہیں تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین محردین اور صدرامام علی رحمٰن سے ملاقاتیں کیں۔ تاجکستانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے دوران افغانستان میں دہشت گردی، غیر قانونی نقل مکانی اور منشیات کے انسداد پر زور دیتے ہوئے افغانستان کی مجموعی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ لاروف نے کہا کہ ہم افغانستان کی صورت حال کے بارے میں ٹھوس اور منظم با ت چیت کر رہے ہیں۔
تاجکستان کے وزیر خارجہ نے اس دوران افغانستان کے شمالی صوبوں میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور انہوں نے افغانستان کی نئی ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر خطے میں سیکورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں میں مختلف دہشت گرد گروہوں کے سر اٹھانے کے بعد درپیش چیلنجوں اور سیکورٹی کے خطرات کے حوالے سے ہمارا یکساں نقطہ نظرہے۔دوسری جانب امارت اسلامیہ نے افغانستان کے شمال میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تردید کی۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا گیا ہے۔ افغانستان میں ایسا کوئی گروہ نہیں ہے جس کے پاس کوئی مضبوط ٹھکانا یا دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے افغانستان کو چھوٹا سا بھی کوئی قطعہ اراضی ہو۔اس لیے اس پر کوئی تشویش نہیں ہونی چا ہئے۔ علاوہ ازیں ان کی موجودگی کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے، لہٰذا ایسے الزامات اور بیانات سے گریز کیا جائے جو کہ بے بنیاد اور بے سرو پا ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا