Casualties reported after explosion rocks Faizabad mosque in Afghanistanتصویر سوشل میڈیا

کابل:افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز شمالی صوبہ بدخشاں کے شہر فیض آباد کی ایک مسجد میں صوبائی ڈپٹی گورنر کی، جو اس ہفتے ایک کار بم حملے میں مارے گئے تھے،نماز جنازہ کے دوران ایک بم دھماکہ ہوا ۔ اگرچہ اس میں فوری طور پر ہلاکتوں یا زخمیوں کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا تاہم غیر سرکاری اطلاع کے مطابق اس دھماکے میں کافی جانی نقصان ہوا ہے۔ شمالی بدخشاں صوبے کے محکمہ اطلاعات و نشریات کے سربراہ معاذ الدین احمدی کے مطابق یہ دھماکہ صوبہ بدخشاں کے شہر فیض آباد کی مسجد میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10 بجے ہوا۔

احمدی نے مزید کہا کہ دھماکے میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔داعش نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے منگل کے روز ڈپٹی گورنر مولوی نثار احمد احمدی کو نشانہ بناتے ہوئے بم دھماکہ کیا تھا جس میں ڈپٹی گورنر اور ان کا ڈرائیور ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے تھے۔

اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، داعش نے افغانستان کی موجودہ حکومت کے لیے سلامتی کی سگین صورت حال پید کر دی ہے۔ گذشتہ دو سالوں کے دوران روسی سفارت خانے، پاکستان کے سفارتی مشن اور کابل کے وسط میں چینی عملہ پر مشتمل ایک ہوٹل پر دہشت گردانہ حملوں کے پس پشت جس میں متعدد غیر ملکی اور افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، داعش کا ہی ذہن کارفرما رہاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *