UN investigative team outlines findings around ISIL chemical weapons useتصویر سوشل میڈیا

نیو یارک:اقوام متحدہ کے تفتیش کار عراق میں دولت اسلامیہ فی العراق والشام (داعش) کے عسکریت پسندوں ذریعہ کیمیاوی اسلحہ سازی اور ان کے استعمال کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کرسچن ریشر نے کہا کہ 2014 میں عراق کے ایک تہائی حصے پر داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم 2014 سے دہشت گرد گروہ کی طرف سے بچوں، سنی اور شیعہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یزیدیوں کے خلاف مسلکی و مذہبی بنیاد پر تشدد اور جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ریشر نے اس سال کے شروع میں اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ شمال مشرقی عراق میں کرکوک کے جنوب میں واقع شیعہ اکثریتی قصبے تازہ خرماتو پر مارچ 2016 کے کیمیاوی حملے کے زندہ بچ جانے والے اب بھی اس کے بعد کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ریشر نے کہا کہ انہوں نے دولت اسلامیہ کے زیر استعمال کیمیاوی ہتھیاروں کی تحقیقات کو ترجیح دی۔ دولت اسلامیہ فی العراق والشام کو داعش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ریشر نے کہا کہ داعش نے متعدد کیمیاوی ہتھیار بنائے اور انہیں کیمیاوی راکٹوں اور مارٹروں اور دھماکہ خیز آلات کی شکل میں تازا خرماتو کے ارد گر نصب کیا۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ داعش کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کا پہلا حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6000 سے زائد رہائشیوں کو زخمیوں کا علاج کیا گیا، جب کہ دو بچے مر گئے اور بہت سے اب بھی کیمیاوی اسلھہ کے اثرات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *