Xi meets Blinken as China, U.S. agree to stabilise tiesتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ:چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ نے حال ہی میں تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کا باعث بننے والے کچھ معاملات پر پیشرفت کی ہے ۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز بیجنگ میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات کے بعد کہی۔ 2018 کے بعد سے کسی اعلیٰ امریکی سفارت کار کے پہلے دورہ چین پر اتوار کو بیجنگ پہنچنے والے مسٹر بلنکن کی آمد سے قبل ،جسے مبصرین نے تعلقات میں کچھ استحکام لانے کے لیے دونوں طرف کی نئی امنگوں کی عکاسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں،اس ملاقات کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ فریقین نومبر 2022 میں بالی میں جب انہوں نے تعلقات کو تنازعات رخی سے روکنے پر اتفاق کیا تھا،ملاقات کے بعدپہلی بار شی اور بائیڈن کی ملاقات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مذکورہ بات چیت ستمبر میں ہندوستان میںجی 20- یا نومبر میں امریکہ میں ہونے والی ایپک سربراہی کانفرنس میں متوقع ہے۔ اعلیٰ امریکی سفارت کار اور شی دونوں نے مزید مستحکم تعلقات کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کوئی بھی تنازعہ عالمی فضا میں ارتعاش پیدا کرے گا اور عالمی نظام درہم برہم ہو سکتا ہے۔چین نے امریکی پابندیوں کو رکاوٹ قرار دیتے ہوئے دفاعی تا دفاعی رابطہ چینلوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکہ کی خواہش کو پورا کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں فریق تائیوان سے لے کر تجارت بشمول چین کی چپ صنعت ، انسانی حقوق اور یوکرین کے خلاف روس کی جنگ تک اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے بعد میں کیلی فورنیا کے دورے کے دوران صحافیوں کے استفسار پر کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات راہ راست پر ہیں نیز اشارہ دیا کہ یہ پیش رفت بلنکن کے دورے کے دوران ہوئی تھی۔ ہم یہاں صحیح راستے پر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *