بیجنگ:امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے، جو دورہ چین پر گئے تھے، کہا کہ چین نےانہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں روس کو ہتھیاروں کی فراہمی نہیں کرے گا۔انہوں پیر کے روز چین کے دارالخلافہ بیجنگ میں کہا کہ چین نے یوکرین میں لڑائی کے لیے روس کو ہتھیار نہ بھیجنے کے وعدے کی تجدید کی ہے حالانکہ انہوں نے نجی چینی فرموں کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔
بلنکن نے دو دن کی بات چیت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ چین نے ہمیں اور دیگر ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نے یوکرین میں استعمال کے لیے روس کو اسلحہ نہ تو دیا ہے اور نہ ہی فراہم کرے گا ۔نیز ہمیں ایسا کوئی ثبوت یا علامت بھی نہیں ملی جو چین کے اس دعوے کی تردید کرتا ہو البتہ ہو سکتا ہے کہ چینی فرمیں اور کمپنیاں ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہو جسے روس یوکرین میں اپنی جارحیت میں شدت لانے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ بل ہم نے چینی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں بہت چوکس رہے۔بلنکن نے کہا کہ چین نے یہ یقین دہانی خاص طور پر صرف ان کے دورے کے دوران نہیں کرائیں بلکہ حالیہ ہفتوں میں عوامی سطح پر بھی یہ یقین دہانیاں کرائی ہیں ۔
امریکہ نے عوامی سطح پر یہ الزامات لگائے ہیں کہ چین روس کی ، جو ایک اہم فوجی طاقت ہے جسے فروری کے بعد یوکرین میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد سے ایران اور شمالی کوریا پر انحصار کرنا پڑرہا ہے ،ہتھیاروں کی کمک فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ چین نے حال ہی میں یوکرین پر اپنی سفارت کاری میں شدت پیدا کی ہے جسے امریکہ کی طرف سے شک کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ روس اپنے علاقائی مفادات کو قانونی حیثیت دینے کے لیے سفارتی راہیں تلاش کر رہا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 