Islamic Emirate calls for restraint in Ukraineتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان نے یوکرین پر روس کی فوجی چڑھائی کی رووشنی میں ایک بیان جاری کر کے اظہار تشویش اور فریقین سے ضبط و تحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔اس ضمن میں امارات اسلامیہ کی وزات خارجہ
یوکرین میں باہم نبرد آزما دونوں فریقوں روس اور یوکرین سے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے اجتناب کریں جو تشدد اور جنگ کو مزی بھڑکانے کا باعث بن سکتا ہو۔واضح ہو کہ روسی صدر ولادمیر پوتین کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد کہ انہوں نے اپنی مسلح افواج کو یوکرین پر فوجی چڑھائی کا حکم دے دیا ہےیوکرین پر چو طرفہ حملہ کر دیا۔

وزارت خارجہ نے متعلقہ فریقین یوکرین میں اقامت پذیر افغان پناہ گزینوں اور طلبا کے تحفظ کو مدنظر رکھنے کی بھی تلقین کی۔یان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسلامی امارات افغانستان غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کے عین مطابق جھگڑے میں مبتلا دونوں فریقوں کو مشورہ دیتی ہے کہ اس بحران اور اپنے متنازعہ معاملات کو مذاکرات اور پرامن طریقے سے طے کریں۔

ایک سیاسی تجزیہ کار میواند باباکرخیل نے کہا کہ یوکرین کے معاملہ نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر دیا ہے۔ ایسے میں اسلامی امارات کو بیرونی ممالک سے افغانستان کے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے بیرون ملک اپنے روبط اور سفر جاری رکھنا چاہئے۔اعداد و شمار کے مطابق یوکرین میں افغانستان، ایران، پاکستان اور بنگلہ دیش کے 50 ہزار سے زائد مہاجرین مقیم ہیں، جن میں سے 20 ہزار افغان باشندے ہیں۔ ایک دیگر سیاسی تجزیہ کار طارق فرہادی نے کہا کہ یوکرین کے حالات سے دنیا کے دیگر ممالک کی افغان مہاجرین کے تئیں توجہ میں کمی واقع ہو جائے گی۔

یورپی یونین اور دیگر ممالک کی جانب سے افغانستان کو مالی اعانت میں بھی کمی ہو جائے گی۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔ ایک روسی سیاسی تجزیہ کار ارسلان سلمانوف کا خیال ہے کہ ماسکو اور کیف کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف کم ہو جائے گی جبکہ اس وقت افغان عوام کو پہلے کی نسبت زیادہ عالمی توجہ کی ضرورت ہے۔اگرچہ بیشتر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے یوکرین پر روس کے فوجی حملے کی مذمت کی ہے لیکن افغانستان کے دو ہمسایہ ممالک چین اور ایران خاموش ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *