واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی حملے کا تازہ ترین جائزہ لینے کے لیے اپنی فوجی قیادت سے ملاقات کی۔ملاقات سے قبل بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اپنے اعلیٰ فوجی افسروں سے کہا کہ وہ ان سے ان کے جائزوں کو سننا چاہتے ہیں کہ میدان میں ہماری افواج کیا دیکھ رہی ہیں۔صدر نے کہا کہ دنیا میں اسٹرٹیجک ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہمارے منصوبے اور قوت کا انداز بھی اتنا ہی متحرک ہونا چاہیے۔ملاقات میں سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی اور تقریباً دو درجن دیگر عسکری رہنما اور قومی سلامتی کے مشیر شامل تھے۔ امریکہ نے بدھ کے روز مزید درجنوں افراد اور اداروں پر تازہ پابندیاں عائد کردیں ۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے صحافیوں کو بتایا کہ محکمہ خزانہ نے ٹرانس کپیٹل نامی ایک اہم روسی تجارتی بینک پر پابندیاں عائد کی ہیں کیوں کہ اس بینک نے بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے عالمی سطح پر بینکوں کو خدمات کی پیشکش کی ہے۔ اس کے علاوہ چالیس سے زیادہ افراد اور اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو روسی اولیگارک کی سربراہی میں روسی پابندیوں سے بچنے کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔پریس سیکریٹری نے بتایا کہ واشنگٹن نے روس کی ورچوئل کرنسی مائننگ انڈسٹری میں کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں اور روس اور بیلاروس کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جواب میں 600 سے زیادہ افراد پر ویزا پابندیاں لگائی ہیں۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل رپورٹس آئی تھیں کہ بائیڈن انتظامیہ یوکرین کے لیے ایک اور بڑے فوجی امدادی پیکج کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کا حجم پچھلے ہفتے اعلان کردہ 800 ملین ڈالر کے پیکج کے برابر ہوگا اور اس میں مزید توپ خانے اور دسیوں ہزار راو¿نڈز شامل ہونے کی توقع ہے، جو ممکنہ طور پر یوکرین کے مشرقی دونباس کے علاقے میں لڑائی کے لیے اہم ہوں گے۔رواں ہفتے کے آغاز میں بائیڈن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ وہ یوکرین کو مزید توپ خانے بھیجیں گے۔
تصویر سوشل میڈیا