Aleem Khan denies joining any political partyتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد:(اے یوایس)ن خبروں کے درمیان کہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی (پی ٹی آئی) کے صوبہ پنجاب اسمبلی کے 40 سے زیادہ اراکین اسمبلی اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کیلئے پیپلز پارٹی میں شمولیت پر غور کررہی ہے ناراض ارٹی رہنما علیم خان نے ان خبروں کی تردید کی انہوں نے کسی نئی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے یا کرنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ علیم خان نے کچھ مہینے پہلے لندن جاکر نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی تھی اور یہ مانا جاتا تھا کہ وہ اور اس کے حامی ممبران مسلم لیگ ن میں شامل ہوں گے لیکن پارٹی کے دوسرے رہنمانے اس کی مخالفت کی۔

انہوں نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جہانگیر ترین اور چودھری سرور سے خوشگوار تعلقات ہیں لیکن سیاست کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میری تمام تر توجہ سماجی و فلاحی کاموں پر ہے۔ قبل ازیں کہا گیا تھا پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کی پیشکش کی لیکن اِس پارٹی نے انہیں واضح پیغام دیا کہ وہ آنے والے انتخابات میں پی ٹی آئی کے منحرف ممبران کو پارٹی ٹکٹ نہیں دے گی اور اس کے فوراً بعد یہ ممبران اپناسیاسی مستقبل بچانے کے دوسرے طریقے پر غور کررہے ہیں، ان میں پییپلز پارٹی میں شمولیت بھی سنجیدگی سے سوچا جارہا ہے۔

حال ہی میں سابق گورنر چودھری سرور نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ۔ اس کے علاوہ وہ مخدوم احمد سے بھی ملے۔ پیپلز پارٹی پنجاب صوبے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی بھی کوشش کررہا ہے تاکہ آئندہ قومی اسمبلی کے انتخاب میں وہ ایک طاقتور سیاسی پارٹی کے طورپر ابھرسکے۔ اِس سلسلے میں جہانگیرترین خان جو کہ عمران خان کے معتمد خا ص مانے جاتے ہیں، اس سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ا س کے علاوہ پنجاب کے ایک اور رہنما علیم خان کو بھی پارٹی میں شامل کرنے کیلئے کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان نے بھی کل یہ الزام لگایا کہ کچھ عناصر پیپلز پارٹی کو جنوبی پنجاب میں مضبوط کرنے کیلئے کام کررہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *