چمولی: اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں الکنندا ندی کے کنارے ٹرانسفارمر پھٹنے سے 15 افراد ہلاک اور 7 افراد زخمی ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ چمولی کے ایس پی پرمیندر ڈوول نے بتایا کہ زخمیوں کو ضلع اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے مجسٹریٹی تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔ان دنوں اتراکھنڈ میں کئی مقامات پر مسلسل بارش ہو رہی ہے۔دھامی نے چاموڈی سانحہ پر اظہار صدمہ کرتے ہوئے کہا کہ چمولی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ کی جس میں 15 ہلاکتیں ہوئی ہیں، خبر ملی۔ واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اسٹیٹ ڈزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی تمام ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ زخمیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے اوراگر ضرورت پڑی تو انہیں دوسرے اسپتالوں میں منتقل کردیا جائے گا۔ زخمیوں کو بڑے اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کی مدد لی جا رہی ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ زخمی جلد صحت یاب ہو جائیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار سب انسپکٹر اور 3 ہوم گارڈز شامل ہیں۔ یہ حادثہ ایک پروجیکٹ میں تعمیر کیے گئے پل میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے پیش آیا۔ پہلے جل نگم کے ایک ملازم کی موت ہوئی پھر دوسرے لوگ کرنٹ کی زد میں آ گئے۔
مسلسل بارش کی وجہ سے گنگا، جمنا سمیت ریاست کی تمام ندیوں میں طغیانی ہے اور گنگا کی معاون ندی الکنندا ندی کے پانی کی سطح میں اضافہ کے پیش نظرپوڑی ضلع کے سری نگر میں جی وی کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے ڈیم سے تقریباً 3000 کیوسکس اضافی پانی چھوڑا گیا۔ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے پوڑی، ٹہری، ہری دوار اور دہرادون کے ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں پانی چھوڑنے کی وجہ سے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ہری دوار، رشی کیش اور دیگر مقامات پر پولیس کی طرف سے لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ دریا کے کناروں سے دور رہیں اور دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں سے اپنی حفاظت کا خیال رکھیں اور وہاں سے چلے جائیں۔
تصویر سوشل میڈیا