پشاور: پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں نے چینیوں پر حملے تیز کردیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کے کام کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ چین نے ان کے وسائل کو لوٹنے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ اسلام آباد میں مقیم ایگزیکٹو ڈائریکٹر منصور خان محسود نے کہا کہ بلوچ علیحدگی پسند چینیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ‘جرائم میں شراکت دار’ سمجھتے ہیں، جسے وہ روکنا چاہتے ہیں۔آزاد تھنک ٹینک فاٹا ریسرچ سینٹر(ایف آر سی) کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کئی بار چینی کمپنیوں کو بلوچستان چھوڑنے کی تنبیہ کی تھی۔
محسود کا مزید کہنا تھا کہ اب وہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خواتین کو خودکش حملے کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے بلوچ باغیوں کا مقصد پورا ہوا، کیونکہ انہیں بیرونی دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی مادر وطن کو “آزاد” کر انے میں کتنے بیتاب ہیں۔ایشیا ٹائمز کے مطابق صورتحال کے پیش نظر چینی قیادت ان علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جہاں ان کی کمپنیاں ملٹی بلین ڈالر چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پی ای سی ) کے تحت اسٹریٹجک منصوبوں میں شامل ہیں۔
فی الحال، پاکستانی حکام سی پی ای سی کے دوسرے مرحلے سے زیادہ فکر مند ہیں، جو صنعتی شعبوں اور کاروبار کو چلانے والے نجی شعبے کے گرد گھومتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں چینی کمپنیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت بھی شامل ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ مزید چینی شہری ملک میں ہوں گے اور ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ بڑھ جائے گا۔رپورٹ کے مطابق حال ہی میں بلوچستان لبریشن آرمی نے چینی کارکنوں کے قافلے کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی۔ ایشیا ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان پولیس نے پیر کو ایک مشکوک خاتون کو گرفتار کیا۔ پولیس نے خاتون کو خودکش حملہ آور کے شبہ میں گرفتار کر لیا۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے دعوی ٰکیا کہ وہ بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ایک اہم منصوبے پر کام کرنے والے متعدد چینی شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔
تصویر سوشل میڈیا