Biden gets fourth COVID vaccine, urges Americans to do the sameتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن:(اے یو ایس ) صدر جو بائیڈن نے کوویڈ 19 کا چوتھا بوسٹر شاٹ لگوا لیا ہے اور تمام امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں جب کہ وائٹ ہاوس کے عہدے دار وں نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ اور کوویڈکے عالمی رد عمل کی فنڈنگ کے لیے 22 ارب ڈالر کی ان کی درخواست کی منظوری دے۔اپنا بوسٹر شاٹ لگوانے سے پہلے بائیڈن نے کہا کہ ہم یہاں ایک بہت ہی سادہ سے پیغام کے ساتھ ہیں کہ ، آپ ویکسین لگوا لیں۔ انہوں نے کانگریس کے ان ارکان پر بھی تنقید کی جو کوویڈ سے چھٹکارا چاہتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لیے رقم خرچ نہیں کرنا چاہتے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم جس فنڈنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ کوویڈ-19 کے خلاف انتہائی مو ثر علاج اور ویکسینز کی تیاری اور اس کی خرید پر کام جاری رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ستمبر میں جن فنڈز کی درخواست کی گئی اس میں چار ارب ڈالر کا وہ فنڈ شامل ہے جو ویکسی نیشن کی عالمی معاونت ، علاج اور تشخیص کے لیے درکار ہے۔ اس رقم پر ری پبلکنز نے تنقید کی ہے اور بائیڈن کی کوویڈ-19 فنڈنگ کی درخواستوں کی مخالفت کی ہے۔سینیٹ کے ری پبلکن ارکان نے کووڈ-19 کے لیے درخواست کی گئی فنڈنگ کی رقم کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وائرس پر وفاقی خرچ کو ختم ہونا چاہیے نہ کہ اس میں اضافہ۔ریاست میزوری کے سینیٹر رائے بلنٹ نے جو ری پبلکن لیڈر شپ ٹیم کے ایک رکن ہیں کہا ہے کہ لوگ اپنی ویکسینز کے لیے خود خرچ کر سکتے ہیں جیسا کہ وہ اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے خرچ کرتے ہیں۔

وائٹ ہاوس کے کوویڈ-19 کے رابطہ کار نے کہا ہے کہ ویکسین کی عالمی مانگ میں کمی ہو گئی ہے اور وائٹ ہاو¿س نے وی او اے کو بتایا کہ امریکہ نے اپنے وعدہ کیے گئے عطیات میں سے لگ بھگ 600 ملین خوراکیں بھیجی ہیں۔ڈاکٹر اشیش جھا نے کہا ہے کہ ، امریکہ وہ ملک ہے جو اپنے مفاد سے بالا تر ہو کر دنیا کے لیے بھی بہت زیادہ کام کرتا ہے۔ اس لیے بہت سی وجوہات کے پیش نظر یہ بہت اہم ہے کہ امریکہ اپنی قیادت جاری رکھے۔ چار ارب ڈالر امریکیوں کے تحفظ اور دنیا کو بہتر طور سے محفوظ بنانے کے لئے ایک چھوٹی سی سرمایہ کاری ہے۔الثر ماہرین صحت اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ڈیوک یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرشنا اودیا کمار نے اسکائپ کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے وی او اے کو بتایا کہ اگر ہم اس وقت درست اقدام نہیں کریں گے تو ہم درحقیقت بجائے آگے جانے کے پیچھے جانے کے خطرے سے دوچار ہو ں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہم ابھی تک اضافی ڈالروں کے وعدے پر قائم ہیں جن میں وہ فنڈنگ شامل ہے جس کی درخواست کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *