Bipartisan resolution introduced in US Senate recognising Arunachal Pradesh as integral part of Indiaتصویر سوشل میڈیا

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی آسمان پر چین کا ‘جاسوسی غبارہ’ نمودار ہونے کے بعد سے ہی امریکہ نے جارحانہ موقف اپنایا ہواہے۔ وہیں امریکہ نے اب ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے چین کی گھبراہٹ بڑھ سکتی ہے۔ درحقیقت امریکی پارلیمنٹ(سینیٹ) میں ایک بل لایا گیا ہے، اگر یہ منظور ہوجاتا ہے تو یہ ہندوستان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ امریکی قانون ساز اروناچل پردیش کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ قرار دینے کے لیے امریکی پارلیمنٹ میں بل لے کر آئے ہیں۔
اوریگن کے سینیٹر جیف مرکلے نے ایجنسی کو بتایا کہ وہ اروناچل پردیش کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ امریکی پارلیمنٹ میں اس پر ایک بل لائے ہیں۔ سینیٹر بل ہیگرٹی نے اس بل پر سینیٹر مرکلے کی حمایت کی ہے۔ سینیٹر ہیگرٹی نے کہا کہ چین ہند بحرالکاہل کے خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کر رہاہے جس میں امریکہ اپنے اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ سرکاری طور پر اروناچل پردیش کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ ماننے لگے۔
انہوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی) پر چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی بھی مذمت کی۔ بھارت اور چین کے درمیان 3500 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اروناچل اور سکم کے مشرقی حصے کو کہا جاتا ہے، جبکہ اتراکھنڈ اور ہماچل کے حصے کو مرکزی حصہ کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف لداخ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی سرحدوں کو مغربی حصے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس طویل سرحد پر کئی ایسے علاقے ہیں جہاں چین اور بھارت کے درمیان شدید تنازعہ ہے۔ اروناچل پردیش کے حوالے سے چین کے دعوے بھی بڑے ہیں۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت سمجھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *