Britain condemns cyber attacks against federal infrastructure in Albaniaتصویر سوشل میڈیا

لندن:(اے یو ایس ) برطانیہ کے نیشنل سائبرسکیورٹی سنٹر نے ایران کو جولائی میں البانوی حکومت کے خلاف سائبر حملے کا موردالزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ایرانی ریاست سے وابستہ اداکار تقریباً یقینی طورپر اس اوچھے حملے کے ذمہ دارہیں۔برطانوی وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے غیرذمے دارانہ اقدامات سے ظاہرہوتا ہے کہ اس کو البانوی عوام سے کوئی سروکار نہیں۔اس کے اقدامات کے نتیجے میں البانوی عوام کی ضروری سرکاری خدمات تک رسائی کی صلاحیت کافی حد تک محدود ہوکررہ گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ برطانیہ اپنے قابل قدرشراکت دار اور ناٹو اتحادی البانیا کی حمایت کررہا ہے۔ہم البانیا اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے ناقابل قبول اقدامات کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

برطانیہ کے اس اعلان سے چندے قبل ہی البانوی وزیراعظم ایدی راما نے بدھ کے روزایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جولائی میں سائبر حملے کی تحقیقات کے بعد ایرانی سفارت کاروں اور سفارت خانہ کے عملہ کو 24 گھنٹے کے اندرملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔راما نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت نے فوری طورپراسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔راما نے کہا کہ یہ انتہائی ردعمل سائبرحملے کی سنگینی اورخطرے کے پیش نظر ہے۔

اس ایرانی حملے سے عوامی خدمات کو مفلوج کرنے، ڈیجیٹل نظام مٹانے اور ریاستی ریکارڈ کو ہیک کرنے، سرکاری انٹرا نیٹ الیکٹرانک مواصلات چوری کرنے اور ملک میں افراتفری اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا خطرہ تھا ۔البانوی دارالحکومت ترانہ میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔واضح رہے کہ امریکا نے بھی کئی ہفتے کی تحقیقات کے بعداس سائبرحملے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ 15 جولائی کو اوچھے اورغیر ذمہ دارانہ سائبر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ کارفرما تھا اور واشنگٹن اپنے ناٹو اتحادی کی حمایت کرے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *