Ceasefire still on between TTP and Pakistan law enforcement agencies despite attacksتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد:(اے یوا یس ) حکام کا کہنا ہے کہ متعدد حملوں کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے۔اےک رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع میں تقریباً 2 عشروں سے جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات اس وقت سے تعطل کا شکار ہیں جب سے بیش تر قبائلی معززین پر مشتمل وفد نے جولائی کے اختتام تک مذاکرات کیے۔ایک عہدیدار نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی البتہ جنگ بندی برقرار ہے۔

حال ہی میں یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد امن مذاکرات پر سوال اٹھائے گئے کہ ٹی ٹی پی کے مسلح عسکریت پسند سوات، دیر اور قبائلی اضلاع کے کچھ حصوں میں واپس آگئے ہیں۔اس حوالے سے اگرچہ حکومت کی جانب سے کوئی اعلانیہ تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن مذکورہ علاقوں میں واپس آنے والے عسکریت پسندوں نے دعویٰ کیا تھا ہے کہ ان کی واپسی ایک معاہدے کے تحت ہوئی ہے، تاہم کابل میں ہونے والے مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ واحد معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی اور عسکریت پسندوں کی واپسی اور معاشرے میں ان کے دوبارہ انضمام جیسے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کا تسلسل برقرار رکھنے کے بارے میں ہوا تھا۔۔ذرائع نے وضاحت کی کہ ہماری جانب سے مطالبہ یہ تھا کہ ٹی ٹی پی کو ختم کیا جائے اور وہ غیر مسلح ہو کر واپس آئیں گے، یقیناً وہ اس سے متفق نہیں تھے ۔ہم نے بھی ان کے کچھ مطالبات سے اتفاق نہیں کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *