بیجنگ: چین اپنی سخت زیرو کوویڈ پالیسیوں کے تحت رہائشیوں کی نقل و حرکت پر مزید نظر کے لیے بنائی گئی اسمارٹ فون ایپ پیر کی شب سے بند کر دی گئی جس کا مطلب ہے اب رہائشنیوں پر نظر نہیں رکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ، اس بات کا امکان کم ہے کہ اگر وہ وبا کے زیادہ کیسز والے علاقوں کا سفر کرتے ہیں تو وہ تنہائی پر مجبور ہوں گے۔ چین نے پیر کو کورونا وائرس کے 8,500 نئے کیسز کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں انفیکشن کیسز کی کل تعداد 3,65,312 تک پہنچ گئی ہے اور اب تک 5,235 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔کورونا وائرس کے پھیلا ؤکو روکنے کے لیے نافذ کی گئی چین کی ان سخت پالیسیوں کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود دارالحکومت بیجنگ میں کئی دکانیں اور دیگر کاروبار بند رہے۔ جس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ بیجنگ کے سب سے زیادہ آبادی والے ضلع چایانگ کا مال انتہائی پرسکون ہے۔ ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ اب بیجنگ میں کوویڈ ٹیسٹنگ کی کم ضرورت ہے۔ جن لوگوں کو ہلکی یا کوئی علامات نہیں ہیں انہیں گھر میں قرنطینہ کا حکم دیا گیا ہے۔
چین کے معروف وبائی امراض کے ماہر ڑونگ نانشن نے سرکاری میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ چین میں اومیکرون وائرس اب بھی بڑھ رہا ہے اور یہ ایک شخص سے دوسرے افراد تک پھیل سکتا ہے۔ کئی بڑے شہروں میں اب بھی ہزاروں لوگ اس انفیکشن سے متاثر ہیں۔درحقیقت پورے چین میں طبی سامان، دکانیں اور دیگر کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ادویات کی دکانوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ جو دکانیں کھلی ہیں تو وہ بھی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ ایسے میں لوگوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ چین میں حالات اس قدر خراب ہیں کہ لوگوں کو طبی سہولیات کے لیے یہاں سے وہاں بھٹکنا پڑتا ہے۔ ان تمام خامیوں کو دور کرنے اور عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چینی حکومت نے کووی ڈ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔کیپٹل اکنامکس کے مطابق، چین کی معیشت 2023 کی پہلی سہ ماہی میں 1.6 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 4.9 فیصد بڑھ سکتی ہے۔ وبائی امراض کے ماہر ڑونگ نے بھی کہا کہ اسے معمول پر آنے میں چند ماہ لگیں گے۔ حکام کے مطابق چین میں کورونا پابندیوں میں نرمی کا مقصد اشیا خصوصا ادویات اور اینٹیجن کٹس کی ہموار فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 