مقبوضہ بیت المقدس(اے یو ایس ) فلسطینی علاقوں میں گذشتہ چند دنوں سے جاری کشیدگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ پیر کی صبح سے 1500 سے زیادہ آباد کاروں نے 23 گروپوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔دریں اثناءمےڈےا مطابق اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والے مغربی گیٹ [مراکشی گیٹ] کو بند کر دیا۔اسرائیلی قابض فوج نے مغربی کنارے میں اریحا شہر کے قریب عقبہ جبر کیمپ پر بھی دھاوا بول دیا، متعدد مکانات کا محاصرہ کیا اور کیمپ کے اندر فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ دھاوا بولنے کے بعد کیمپ کے داخلی راستے بھی بند کر دیے گئے۔
فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ عقبہ جبر کیمپ پر اسرائیلی فوج نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران پندرہ سالہ بچے محمد فائز بلھان کو سر اور پیٹ میں گولیاں مار کر شہید کردیا جب کہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے اریحا کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملہ کر کے نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ جب کہ اس کشیدگی کے جلو میں غزہ اور لبنان سے اسرائیل پر راکٹ داغے گئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے گذشتہ بدھ کو اعلان کیا کہ غزہ سے اسرائیل کی طرف 9 راکٹ داغے گئے جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملوں کے خطرے کے پیش نظرخطرے کے سائرن بجائے گئے۔اس کے ساتھ ہی اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں درجنوں نمازیوں پر حملہ کیا جسے اس نے فسادات کا ردعمل قرار دیا۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اسے مسجد کے احاطے میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اس نے بتایا کہ مسجد میں نقاب پوش افاد موجود ہیں جو پولیس پر سنگ باری کرتے ہیں۔ بعد ازاں قابض اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر ساڑھے تین سو نمازیوں کو گرفتار کرلیا۔
تصویر سوشل میڈیا