How China's new No.2 hastened the end of Xi's zero-COVID policyتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ: چین میں زیرو کووِڈ پالیسی کو ختم کرنے میں حکمران کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی میں نمبر 2 پر پہنچنے لیڈر لی کیانگ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین میں حالیہ مظاہروں کو دبانے میں بھی ان کا بڑا کردار ا رہا ہے۔ جانکاری کے مطابق لی جلد ہی چین کے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں، لوگ چین کی زیروکوو ڈ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور صدر شی جن پنگ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران لی کیانگ نے اس وقت کے احتجاج کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جانکاروں کے مطابق مارچ میں معمول کے حالات میں واپسی کرنے کے اعلان کے مقصد سے چین کے اعلی حکام اور طبی ماہرین صدر شی جن پنگ کی زیرو کووِڈ پالیسی کو ختم کرنے اور آہستہ آہستہ 2022 کے آخر تک ملک کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اس وقت 63 سالہ لی کیانگ اکتوبر میں اپنی ترقی سے قبل شنگھائی کے انچارج تھے، جہاں انہوں نے گزشتہ سال شہر کے 25 ملین افراد کے دو ماہ کے لاک ڈاؤن کی نگرانی کی تھی۔ کانگریس کے بعد، لی نے پارٹی کی مرکزی کووڈ ٹاسک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے وائرس کے خلاف چین کی لڑائی کی کمان سنبھالی، جو پولیٹ بیورو کی قائمہ کمیٹی کو رپورٹ کرتی ہے۔ 11 نومبر کو چین نے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔

شی جنہوں نے نومبر میں مظاہروں سے نمٹنے کے لیے لی کو ذمہ داری سونپی جس کے بعد لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم اس سے قبل دونوں کے درمیان اختلاف رائے تھا۔ شی اور لی کا خیال تھا کہ پابندیوں میں نرمی اور لاک ڈاؤن ہٹانے سے مظاہرین پر سکون کیا جا سکے گا۔ اکتوبر میں کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں، شی نے اپنی زیرو کووڈپالیسی کی حمایت کی اور کہا کہ اس کے مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

بتادیں کہ چین کی پارلیمنٹ کا سالانہ اجلاس 5 مارچ سے شروع ہو رہا ہے۔ اس میٹنگ میں پارٹی لیڈروں کی جانب سے معیشت کو وبا سے نکالنے میں مدد کے لیے ایک منصوبہ پیش کرنے کی توقع ہے۔ 63 سالہ لی کیانگ اکتوبر میں اپنی ترقی سے قبل شنگھائی کے انچارج تھے، جہاں انہوں نے گزشتہ سال شہر کے 25 ملین افراد کے دو ماہ کے لاک ڈاو¿ن کی نگرانی کی تھی۔ کانگریس کے بعد، لی نے پارٹی کی مرکزی کووڈٹاسک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے وائرس کے خلاف چین کی لڑائی کی کمان سنبھالی، جو پولیٹ بیورو کی قائمہ کمیٹی کو رپورٹ کرتی ہے۔ 11 نومبر کو چین نے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *