IHC gives another chance to Rana Shamim to submit affidavit in contempt caseتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد:(اے یو ایس ) گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر آپ بیان پرقائم بھی رہتے ہیں اور معافی بھی مانگتے ہیں تو پھر دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔یہ ہتے ہوئے جسٹص اطہر من اللہ نے رانا شمیم کو ایک ہفتہ کے اندر بیان حلفی داخل کرنے کا ایک اور موقع دیا۔رانا شمیم اپنے وکیل لطیف آفریدی کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ وکیل نے کہا کہ ہم نے غیر مشروط معافی عدالت کو جمع کرائی۔ ہم نے عدالت سے معافی قبول کرنے کی استدعا کی ہے۔اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے معافی کے ساتھ کوئی بیان حلفی جمع کرایا ہے؟‘ اس پر لطیف آفریدی نے جواب دیا کہ ’ہم نے معافی مانگ لی اور عدالت کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس ہائیکورٹ کی حد تک توہین عدالت کیس میں اصول واضح ہے۔ غیر مشروط معافی عدالت سے متعلق نہیں بلکہ اپنے اقدام کا داغ دور کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی حقیقی معافی مانگے اور طرز عمل درست ہو تو عدالت کو معافی تسلیم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ رانا شمیم اگر اپنے بیان حلفی کے متن کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر معاملہ تو جوں کا توں ہے۔ چیف جسٹس پاکستان یا کوئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں یہ تاثر غلط ہے۔ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں جا سکتیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ کوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج پر اثرانداز ہوا، یہ عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش ہے۔انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ معافی نامہ کسی عدالت سے متعلق نہیں بلکہ اس معاملے کو صاف کرنے کی حد تک ہوتا ہے۔ اگر کوئی حقیقت میں معافی مانگے اور غلطی پر پچھتاوا ہو تو معاف کرنے پر عدالت کو کوئی مسئلہ نہیں۔

یہ اسلام آباد ہائیکورٹ ہے۔ اس ہائیکورٹ کو یہاں زیر سماعت کیسسز کی حد تک ہی دلچسپی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ جس جج کا بیان حلفی میں نام ہے وہ تو ا±س وقت اِس کورٹ میں چوتھے نمبر پر تھے۔ آپ نے سینیئر پیونی جج کا لکھا، سینیئر پیونی جج کس کورٹ کا؟ یہ تو اب آپ معاملے کو اور متنازع بنا رہے ہیں۔وکیل لطیف آفریدی نے دلائل دیے کہ رانا شمیم کی بھابھی سمیت خاندان میں اموات ہوئیں تھیں اور رانا شمیم نے ذہنی تناو¿ کی صورت حال میں بیان حلفی لکھا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں توہین عدالت کی کارروائی میں ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔’اگر رانا شمیم بیان حلفی کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس عدالت کو اپنے محاسبے کی ضرورت ہے۔ اتنے بڑے اخبار میں خبر لگی تھی اور آج کہہ رہے ہیں کہ میرا حافظہ کمزور ہو گیا تھا۔ یہ اس عدالت کے لیے بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہ عدالت کسی پر دباو¿ نہیں ڈلنا چاہتی۔ جو بھی سچ ہے وہ بتائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *