Inspite of strong reaction from political parties court shows patience: says CJ Bandialتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد:(اے یو ایس ) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ بعض فیصلوں پر سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود ان کی عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس آف پاکستان نے فل کورٹ سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ مارچ 2022 سے ہونے والے سیاسی ایونٹس کی وجہ سے سیاسی مقدمات نئی عدالتوں میں آئے ہیں۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر ججز کی مشاورت سے از خود نوٹس لیا۔ ڈپٹی ا سپیکر کی رولنگ کے خلاف پانچ دن میں سماعت کر کے رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ’سپریم کورٹ نے ڈپٹی ا سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا فیصلہ بھی تین دن میں سنایا۔ دوست مزاری کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر سیاسی جماعتوں نے سخت ردعمل دیا۔ سیاسی جماعتوں کے سخت ردعمل کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آگاہ ہیں کہ ملک کو سنجیدہ معاشی بحران کا سامنا ہے۔ملک میں اس وقت بدترین سیلاب کا بھی سامنا ہے۔ سیلاب متاثرین کے لیے ججز نے تین دن اور عدالتی ملازمین نے دو دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چارج سنبھالا تو فوری فراہمی انصاف، زیر التوا مقدمات اور از خود نوٹس کے اختیارات کے استعمال جیسے چیلنجز درپیش تھے۔ خوشی ہے کہ زیر التوا مقدمات کی تعداد 54134 سے کم ہو کر 50265 تک پہنچ گئی ہے۔صرف جون سے ستمبر تک 6458 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی نے گذشتہ دس سالہ اضافے کے رحجان کو ختم کیا۔ معزز ججز صاحبان نے اپنی چھٹیوں کو قربان کیا۔ آئندہ چھ ماہ میں مقدمات کی تعداد 45 ہزار تک لے آئیں گے۔ فراہمی انصاف کے متبادل نظام سے یقین ہے کہ زیر التوا مقدمات میں 45 فیصد تک کمی آئے گی۔چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ججز تقرریوں کے سلسلے میں بار کی معاونت درکار ہے جبکہ آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کو جلد سنا جائے گا۔انھوں نے وضاحت کی کہ ’پالیسی معاملات میں عمومی طور پر مداخلت نہیں کرتے۔ لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے مقامات بھی سننے پڑتے ہیں۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے پانچ اہل اور قابل ججوں کو نامزد کیا گیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے ڈپٹی ا سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق عدالتی فیصلے کا ردعمل جوڈیشل کمیشن میں دیا۔ کیا یہ ردعمل عدلیہ کی آزادی کے زمرے میں آتا ہے؟‘چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں موجود وفاق کے نمائندوں میں سے ایک نے نامزدگیوں کو مسترد اور ایک نے مو خر کر دیا۔اس دوران سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون بنے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 12 ہے اور پانچ ججز کی تعیناتیاں نہ ہونے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست ہوا ہے۔ ’چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ مشاورت کے ساتھ تعیناتیوں کا معیار نوٹیفائی کیا جائے۔‘انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ آئین کے منافی ہے۔ آرٹیکل 63 اے فیصلے کے خلاف نظرثانی پر فل کورٹ تشکیل دے کر سماعت کی جائے۔

ریفرنس سے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل، اور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی خطاب کیا جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی عدم موجودگی کے باعث ان کا تحریری خطاب ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل کے خطاب میں کہا گیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی وجوہات کا جو حل نکالا ہے اس سے دس سال میں پہلی مرتبہ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی آئی ہے، تجویز ہے کہ عدالت عظمی صرف ان مقدمات کو پذیرائی دے جس میں کوئی ٹھوس قانونی سوال ہو۔ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد کا پوری ہونا ضروری ہے۔’ججز کی تقرریوں کا طریقہ کار طے ہونا باقی ہے،تقرریوں کے طریقہ کار میں اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری باہمی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ قابل جج کو سپریم کورٹ لایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *