ریاض(اے یو ایس ) سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن نے ان والدین کے خلاف انتباہ کیا ہے جو بچوں کی تعلیم چھوڑنے کا باعث بنتے ہیں اور انہیں سیکھنے میں مدد نہیں کرتے۔ بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی سزا چائلڈ پروٹیکشن قانون کے آرٹیکل 4 کے تحت آتی ہے۔پبلک پراسیکیوشن نے “ٹویٹر” پر اپنے آفیشل اکاو¿نٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے لیے مناسب حالات پیدا کریں، انھیں سیکھنے میں مدد کریں اورانھیں مختلف منحرف رویوں سے بچائیں جو ان کی تعلیم میں رکاوٹ بن رہے ہوں۔
تعلیم میں خلل ڈالنا بدسلوکی اور غفلت کی ایک شکل ہے جس کے لیے بچوں کے تحفظ کے نظام کے تحت جوابدہی کی جائے گی۔قانون دان ایڈووکیٹ عبداللہ الخطیب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام نے بچوں کو ہر قسم کی غفلت سے بچانے کا واضح طور پر ذکر کیا ہے، جس میں غیر حاضری یا اس کی وجوہات کی وضاحت کیے بغیر طالب علم کی تعلیمی غفلت بھی شامل ہے۔ اس کے نتائج وہ والدین برداشت کرتے ہیں جو اپنے بچوں کی حاضری کی اہمیت اور ضرورت سے ناواقف ہوتے ہیں۔
بچوں کی اسکول کی غیرحاضری کا تناسب 30 فی صد سے تجاوز کرجائے تو یہ تشدد اور بدسلوکی کی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پربچے کے والدین کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔دوسری طرف سعودی عرب کی وزارتِ تعلیم نے، ضابطہ اخلاق اور حاضری کے لیے تنظیمی اور طریقہ کار کے رہ نما کے ذریعےکئی کنٹرولز قائم کیے ہیں، کیونکہ غیر حاضری کی شرح 30 فی صد سے زیادہ ہونے کی صورت میں سرپرست کے خلاف مرکز برائے انسداد تشدد و بدسلوکی کوبھیجا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی لاپرواہی ہے جوطالب علم کے تعلیم چھوڑنے کا سبب بن رہی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا