بغداد (اے یو ایس ) ایک سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ عراق نے الکحل مشروبات پر 2016 سے عائد پابندی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ کچھ عراقیوں کا خیال ہے کہ یہ اسلامی مذہبی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے اور اس سے سماجی آزادیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔پابندی کا اطلاق اس وقت ہوا جب پارلیمنٹ کی جانب سے بل کی منظوری کے سات سال بعد 20 فروری کو یہ قانون عراقی سرکاری گزٹ میں شائع ہوا۔ عمل درآمد میں تاخیر کی کوئی سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعتیں موجودہ مخلوط حکومت میں اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں زیادہ اثر و رسوخ والی ہیں۔
قانون درآمد شدہ الکحل مشروبات پر پابندی عائد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ انہیں مقامی بازاروں میں فروخت یا گھریلو مصنوعات کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔رائٹرز کے مطابق سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سرحدی گزرگاہوں اور ایئرپورٹس کے حکام کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ مسافروں کے پاس موجود الکوحل والے مشروبات کو ضبط کر لیں۔ دوسری طرف پابندی کے باوجود بغداد اور کچھ صوبوں میں شراب کی دکانیں اب بھی کام کر رہی ہیں۔ دکانوں کے کچھ مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں کام بند کرنے کا سرکاری نوٹس موصول نہیں ہوا۔ عراقی حکام نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔الکحل مشروبات فروخت کرنے کا لائسنس عراق میں صرف غیر مسلموں کو دیا جاتا ہے۔
عوامی مقامات پر شراب پینا ممنوع نہیں ہے بلکہ اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ عراقی پارلیمنٹ میں عیسائی اقلیت کے نمائندے اسوان الکلدانی نے کہا کہ یہ پابندی جمہوری آئین میں دی گئی آزادیوں سے متصادم ہے اور انہوں نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔ کچھ عراقیوں نے خوف کا اظہار کیا ہے کہ عراق پڑوسی ملک ایران کی طرح اسلامی جمہوریہ بن سکتا ہے۔بغداد میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار علی الصاحب نے بتایا ہے کہ عراق ایک اسلامی ملک نہیں ہے۔ اس میں مختلف فرقے اور مذاہب پائے جاتے ہیں۔ کچھ مذاہب شراب پینے کی اجازت دیتے ہیں۔ حکومت کسی خاص رائے یا نظریے کو دوسروں پر مسلط نہیں کر سکتی۔
تصویر سوشل میڈیا